پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک
پاکستان سمیت متعدد اسلامی ممالک نے غزہ میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت کرتے ہوئے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت سے متعلق متفقہ اعلان جاری کر دیا ہے۔ یہ اعلان امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی دعوت کے بعد سامنے آیا ہے۔
وزرائے خارجہ کا مشترکہ اعلامیہ
پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے اپنی اپنی حکومتوں کے مشترکہ فیصلے کا اعلان کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام ممالک اپنی آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق شمولیتی دستاویزات پر دستخط کریں گے۔
ابتدائی شمولیت کا اعلان
مشترکہ اعلامیے کے مطابق مصر، پاکستان اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے کا باضابطہ اعلان کر چکے ہیں۔ دیگر ممالک بھی مرحلہ وار اس عمل کو مکمل کریں گے۔
صدر ٹرمپ کی امن کوششوں کی حمایت
وزرائے خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کے ممالک بورڈ آف پیس کے مشن پر عملدرآمد میں مکمل تعاون کریں گے۔
غزہ کے لیے عبوری انتظامیہ
اعلامیے میں کہا گیا کہ غزہ بورڈ آف پیس، غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے کے تحت ایک عبوری انتظامیہ کے طور پر کام کرے گا، جس کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے ذریعے کی گئی ہے۔
مستقل امن کا ہدف
مشترکہ اعلامیے کے مطابق بورڈ آف پیس کا مقصد مستقل جنگ بندی کو مستحکم کرنا، غزہ کی تعمیر نو میں معاونت، اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کو فروغ دینا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
گل پلازہ آتشزدگی: واقعے کے وقت تمام دروازے کھلے تھے، صدر کمیٹی تنویر پاستا











