پاکستان معاہدہ ختم کرنے کا حامی
پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے پر اختلافات برقرار ہیں۔ جہاں پاکستان معاہدہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ ایران اس میں توسیع پر زور دے رہا ہے۔
پاکستان کا مؤقف
ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایران سے مطالبہ کیا ہے۔ کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ماورائے عدالت تصفیے کے تحت ختم کر دیا جائے۔ جس کی بڑی وجہ امریکی پابندیاں اور ملک میں گیس کی کم طلب ہے۔
ایران کی توسیع کی پیشکش
ایران نے معاہدہ ختم کرنے کے بجائے۔ اس میں دس سالہ توسیع پر اتفاق کیا ہے اور مزید توسیع کے لیے بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
امریکی پابندیاں بڑی رکاوٹ
یہ منصوبہ 2014 سے امریکی پابندیوں کے باعث تعطل کا شکار ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی امریکا سے اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے چھوٹ مانگ چکا ہے۔ تاہم ہر بار انکار کیا گیا۔
قانونی دباؤ اور سفارتی رابطے
معاہدے پر عمل نہ ہونے کے باعث ایران کی قانونی کارروائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بیک ڈور سفارتی رابطے جاری ہیں۔ یہ معاملہ اعلیٰ سطحی ایرانی وفود کے سامنے بھی اٹھایا جا چکا ہے۔
گیس کی وافر دستیابی
حکام کے مطابق پاکستان میں گیس پہلے ہی وافر ہے۔ اسی لیے قطر سے 2026 کے لیے ایل این جی معاہدے ختم کیے گئے۔ جبکہ ایرانی گیس ایل این جی کے مقابلے میں مہنگی بھی ہے۔
مزید پڑھیں
حکومت کے حق میں تاریخی مظاہرے، ایرانی قوم نے دشمنوں کو شکست دی: خامنہ ای











