محمود خان اچکزئی
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی قیادت میں آزاد کشمیر جانے والے اپوزیشن وفد کو راولپنڈی کہوٹہ روڈ پر پولیس نے روک دیا، جس کے بعد رہنماؤں نے احتجاجاً آزاد پتن شاہراہ پر دھرنا دیا۔
اپوزیشن وفد کو راستے میں روک دیا گیا
پولیس کی جانب سے راستہ بند کیے جانے پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے احتجاج ریکارڈ کرایا اور کچھ دیر کے لیے آزاد پتن شاہراہ پر دھرنا دیا۔ وفد میں محمود خان اچکزئی کے علاوہ اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ ناصر عباس، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور مہتاب عباسی بھی شامل تھے۔
محمود خان اچکزئی کا مؤقف
بعد ازاں دھرنا ختم کرنے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کشمیری وفد نے ان سے ملاقات کر کے اپنے مسائل سے آگاہ کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے آزاد کشمیر جانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات درست ہوں گے تو ان کی حمایت کریں گے اور اگر مناسب نہ ہوئے تو کھل کر اپنی رائے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے باعث شہریوں کو ہونے والی پریشانی پر انہیں افسوس ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کا ردعمل
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ اپوزیشن کشمیری عوام کے مسائل کا حل چاہتی تھی، لیکن حکومت نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مختلف وفود نے کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی، اسی مقصد کے تحت اپوزیشن وفد آزاد کشمیر جا رہا تھا۔
مزید پڑھیں
عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی گرفتاری کا حکم دے دیا











