مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر اکتوبر میں باقاعدہ بحث شروع کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم قومی معاملہ ہے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر مشاورت کی جائے گی۔
نئے صوبوں کے معاملے پر پارلیمانی بحث
طارق فضل چوہدری کے مطابق نئے صوبوں کے قیام سے متعلق تجاویز اور معاملات کو پارلیمنٹ کے فورم پر زیر بحث لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے اتفاق رائے اور آئینی طریقہ کار کے تحت ہی کیے جا سکتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں سے مشاورت ضروری
انہوں نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کا معاملہ صرف کسی ایک جماعت کا فیصلہ نہیں بلکہ ایک قومی مسئلہ ہے، جس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقین سے مشاورت ضروری ہے۔
انتظامی بہتری مقصد ہونی چاہیے
رہنما مسلم لیگ (ن) کے مطابق نئے صوبوں کی بحث کا مقصد عوام کو بہتر انتظامی سہولیات فراہم کرنا اور حکمرانی کے نظام کو مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فیصلے میں عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
آئینی تقاضے پورے کرنا ہوں گے
نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین میں مقررہ طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی، سینیٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کا کردار اہم ہوگا۔
سیاسی حلقوں میں نئی بحث
نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی منظرنامے میں نمایاں ہوگیا ہے۔ مختلف سیاسی رہنما اس حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے پارلیمانی بحث پر زور دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
پاکستانی پولٹری فارمز میں خطرناک ’سپر بگز‘ کے پھیلاؤ کا انکشاف، برطانوی اخبار










