وعدے، اعلانات، مگر نتیجہ صفر
سال اپنے اختتام کی جانب ہے۔ لیکن کراچی میں ایک بار پھر صورتحال گزشتہ برسوں جیسی ہی رہی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نگرانی میں شروع ہونے والے میگا ترقیاتی منصوبے تاحال مکمل نہیں ہوسکے۔ جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کچھ منصوبے جزوی مکمل ہوئے۔ کچھ ادھورے چھوڑ دیے گئے۔ جبکہ کچھ پر کام شروع ہونے کے باوجود عوام ان کے ثمرات سے محروم ہیں۔
پانی کا بدترین بحران برقرار
کراچی کی تقریباً تین کروڑ آبادی کے لیے دریائے سندھ اور حب ڈیم سے چھ سو پچاس ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ جبکہ ضرورت بارہ سو ملین گیلن یومیہ ہے۔ یوں شہر کو روزانہ پانچ سو پچاس ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے۔
کے فور منصوبہ، تاخیر، مسائل اور ادھورا سفر
اضافی پانی کا منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں کے فور منصوبہ دو ہزار سولہ میں شروع ہوا اسے دو سال میں مکمل ہونا تھا۔ دو ہزار اٹھارہ میں ناقص منصوبہ بندی کے باعث کام روک دیا گیا واپڈا نے دو ہزار بائیس میں ری ڈیزائن کے بعد دوبارہ کام شروع کیا۔ اسے دسمبر دو ہزار پچیس میں مکمل کرنے کا اعلان ہے۔ تاحال صرف پینسٹھ فیصد کام مکمل ہوسکا ہے۔ منصوبے کے مزید تین اہم حصے سندھ حکومت نے مکمل کرنے ہیں۔ جن کی مدت دو ہزار ستائیس مقرر ہے۔ مگر ان میں سے ایک پر تاحال کام شروع ہی نہیں ہوا۔
پینسٹھ ملین گیلن پانی کا منصوبہ بھی سات سال سے معطل
یہ منصوبہ سندھ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث سات سال سے رکا ہوا ہے اور اس پر صرف پندرہ فیصد کام ہوسکا ہے۔
پانی کی رساؤ سے بڑی مقدار ضائع
متعلقہ افسر کے مطابق حب ڈیم سے ملنے والا سو ملین گیلن پانی پورا شہر تک نہیں پہنچ پا رہا شہر کو صرف ستر ملین گیلن پانی مل رہا ہے۔ واٹر کارپوریشن کی بائیس کلومیٹر کینال مکمل واپڈا کی حدود میں آنے والی آٹھ کلومیٹر کینال خستہ حالی کا شکار ہے۔ جس کے باعث تقریباً تیس ملین گیلن پانی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹرانسپورٹ منصوبے بھی تاخیر کا شکار
گرین لائن فیز ٹو تین سال تاخیر دو ماہ قبل دوبارہ کام شروع تین کلومیٹر طویل تکمیل ایک سال میں متوقع
اورنج لائن
تین اعشاریہ نو کلومیٹر طویل چار سال پہلے مکمل ہوا لیکن عوامی سطح پر خاطر خواہ فائدہ نہ دے سکا۔
یلو لائن
کئی سال تاخیر کے بعد دو ہزار چوبیس میں آغاز اب تک تیرہ فیصد کام مکمل تکمیل دو ہزار اٹھائیس میں متوقع منصوبہ چھبیس کلومیٹر طویل ہے
سیوریج کے میگا منصوبے بھی تاخیر کا شکار
سیوریج کے دو اہم منصوبے دو دہائیوں سے تعطل کا شکار ہیں۔ صنعتی فضلے کے لیے کمبائنڈ ایفولینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ دو ہزار اٹھارہ میں شروع ہونا تھا۔ لیکن شروع نہ ہوسکا۔ اب اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نتیجہ
کراچی جیسے میگا شہر میں ترقیاتی منصوبوں کی سست رفتاری شہریوں کے لیے بڑے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ اگر فنڈز کی فراہمی، شفافیت اور مستقل توجہ نہ دی گئی۔ تو یہ منصوبے مزید تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں اور عوام کو ریلیف ملنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
کمپیٹیشن کمیشن متحرک، شوگر ملز و پولٹری سیکٹر کی سخت مانیٹرنگ











