غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی
کراچی میں غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے انہیں نوکریوں سے برطرف کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہر کے بگڑتے انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا گرین سگنل
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کا انفراسٹرکچر تباہ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں احتسابی عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
شوکاز نوٹس اور محکمانہ کارروائی
ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آپریشن کی جانب سے ڈیڑھ سو سے زائد افسران اور ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ جن افسران کے جوابات تسلی بخش نہیں پائے گئے، ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نوکریوں سے برطرفی اور قانونی کارروائی
ایس بی سی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران کو نہ صرف نوکریوں سے برطرف کیا جائے گا بلکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
غیر قانونی سسٹم چلانے والے افسران کی شامت
انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں غیر قانونی تعمیرات کے نظام کو چلانے اور اس کی سرپرستی کرنے والے افسران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے۔
تحقیقات کے بعد مزید ایکشن
ذرائع کا کہنا ہے کہ شوکاز نوٹس کا جواب غیر تسلی بخش ہونے پر مزید تحقیقات کی جائیں گی، جس کے بعد افسران اور ملازمین کو مرحلہ وار نوکریوں سے برطرف کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
ایس بی سی اے انتظامیہ کا مؤقف
ایس بی سی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل فرحان قیصر کے مطابق ادارے کے خلاف پھیلائے جانے والے منفی تاثر کو ختم کرنے کے لیے احتساب کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے صوبے میں ادارے کی رٹ بحال کی جا رہی ہے اور غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
پشاور: شدید موسم کے باوجود تعلیمی سرگرمیاں جاری، بچوں کی صحت خطرے میں











