اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی
امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ یہ پیشرفت واشنگٹن میں ہونے والے چوتھے سہ فریقی مذاکرات کے بعد سامنے آئی، جہاں فریقین نے مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کیا۔
واشنگٹن مذاکرات اور معاہدہ
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کریں گے تاکہ مستقل اور جامع معاہدے کی جانب پیش رفت کی جا سکے۔
سیکیورٹی انتظامات پر اتفاق
اعلامیے کے مطابق جنوبی لیطانی سیکٹر میں ایک پائلٹ زون قائم کیا جائے گا جس کا کنٹرول لبنانی فوج کے پاس ہوگا۔ اس علاقے میں کسی بھی غیر ریاستی مسلح عنصر کے داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ اقدامات سے گریز کریں گے۔
حزب اللہ سے متعلق شرائط
معاہدے میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ کو حملے روکنے ہوں گے اور جنوبی علاقوں سے انخلا کرنا ہوگا تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے اور سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔
امریکی دعوے اور پس منظر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پر بات چیت کامیاب رہی ہے اور اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر رابطے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق بعض فوجی اقدامات کو بھی عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم نے جنوبی لبنان میں محدود کارروائیوں کے تسلسل کا عندیہ بھی دیا تھا، جس سے صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں
بلوچستان میں پیٹرولیم مصنوعات کا بحران، پیٹرول اور ڈیزل 500 روپے فی لیٹر میں فروخت ہونے لگا










