اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے، تاہم ابتدائی نتائج اور ایگزٹ پولز کے مطابق کسی بھی سیاسی اتحاد کو پارلیمان میں واضح اکثریت ملنے کا امکان نظر نہیں آ رہا۔ وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد اور ان کے مخالفین کے درمیان سخت مقابلہ ہے، جس کے باعث نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے سیاسی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
اسرائیلی انتخابات میں کانٹے کا مقابلہ
اسرائیل میں 27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے انتخابات میں ووٹرز نے پارلیمان کے 120 ارکان کے انتخاب کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار نمایاں جماعتوں میں شامل ہیں۔ تاہم کسی ایک جماعت کی کامیابی سے حکومت بننے کا فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد اہم کردار ادا کرے گا۔
نیتن یاہو اور اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلہ
ابتدائی ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے حامی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دی، جبکہ اپوزیشن اتحاد بھی حکومت بنانے کے لیے درکار نشستوں کی تعداد تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے۔ اسرائیلی پارلیمان میں اکثریت کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔ ووٹوں کی حتمی گنتی کے بعد دونوں سیاسی دھڑوں کی پوزیشن میں تبدیلی ممکن ہے۔
عرب جماعتیں حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں
ابتدائی انتخابی اندازوں کے مطابق عرب قیادت والی جماعتیں بھی قابلِ ذکر نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔ اگر بڑے سیاسی اتحاد اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو یہ جماعتیں حکومت سازی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے معاملے پر اسرائیلی سیاست میں اختلافات موجود ہیں، جس سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔
ووٹرز کی بڑی تعداد نے انتخابات میں حصہ لیا
اسرائیلی انتخابات میں ووٹرز کی شرکت نمایاں رہی۔ مرکزی انتخابی کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ووٹنگ کے اختتام تک ٹرن آؤٹ تقریباً 77.7 فیصد رہا، جو 1999 کے بعد بلند ترین سطح قرار دیا گیا۔ انتخابات میں نیتن یاہو کی قیادت، قومی سلامتی، 7 اکتوبر 2023 کے واقعات اور فوجی سروس سے متعلق معاملات اہم موضوعات رہے۔
نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات اہم ہوں گے
ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے اور حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے۔ اس کے بعد ایسے امیدوار کو حکومت بنانے کی دعوت دی جا سکتی ہے جس کے پاس پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کا بہتر امکان ہو۔ اگر کوئی بھی امیدوار مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکا تو حکومت سازی میں تاخیر یا دوبارہ انتخابات کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ فی الحال انتخابی نتائج غیر حتمی ہیں اور سیاسی صورتحال واضح ہونے کے لیے مزید انتظار کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں
ملتان میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کے الزام میں سکیورٹی گارڈ گرفتار








