ایران جنگ کے اثرات امریکا کی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں ایندھن اور خوراک سے متعلق قیمتوں میں اضافے نے صارفین کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور توانائی کی عالمی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث امریکی مارکیٹ میں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ
ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ امریکا میں پٹرول کی قیمتیں چار ڈالر فی گیلن سے اوپر برقرار رہنے سے صارفین کے روزمرہ اخراجات متاثر ہورہے ہیں۔
ڈیزل بھی مہنگا ہوگیا
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ڈیزل پر بھی پڑا ہے۔ ڈیزل ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے لیے بنیادی ایندھن ہے، اس لیے اس کی قیمت بڑھنے سے سامان کی ترسیل اور پیداوار کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
غذائی اجزا کی قیمتوں پر اثر
توانائی کے ساتھ ساتھ خوراک کی پیداوار میں استعمال ہونے والے اہم اجزا کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔ ایندھن اور کھاد کی لاگت میں اضافہ زرعی پیداوار اور خوراک کی مجموعی قیمتوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
ٹرانسپورٹ اخراجات بڑھنے کا خدشہ
ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرکنگ، زرعی مشینری اور سامان کی ترسیل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کا اثر بالآخر دکانوں تک پہنچنے والی مختلف اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
امریکی صارفین پر اضافی بوجھ
ایندھن اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث امریکی صارفین کے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ حالیہ سروے میں بھی ایران جنگ کے باعث ایندھن، توانائی اور غذائی قیمتوں میں اضافے کو صارفین کے اعتماد میں کمی کی ایک وجہ قرار دیا گیا ہے۔
مہنگائی کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان
ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور توانائی کی سپلائی میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو ایندھن اور خوراک سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ قائم رہ سکتا ہے۔ عالمی تیل کی ترسیل اور سپلائی چین میں ہونے والی تبدیلیاں آنے والے دنوں میں امریکی مارکیٹ کے لیے اہم رہیں گی
مزید پڑھیں
پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 15 نومولود زندگی کی بازی ہار گئے










