آئی ایم ایف کی نشاندہی پر اہم پیش رفت
اسلام آباد میں آئی ایم ایف کی جانب سے گورننس میں موجود خامیوں کی نشاندہی کے بعد حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے۔ اقتصادی گورننس سسٹمز کے جائزے اور اصلاحات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر بننے والی یہ کمیٹی گورننس اصلاحات کے عمل کو مزید مؤثر بنانے میں کردار ادا کرے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ کمیٹی کے چیئرمین مقرر
قائم کی گئی 15 رکنی کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر خزانہ کریں گے۔ کمیٹی کا قیام وزیراعظم کے اقتصادی گورننس اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ جو سہ ماہی بنیادوں پر اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ تاکہ اصلاحات کے عمل کی مسلسل نگرانی ممکن ہو سکے۔
کمیٹی کے ارکان کون ہیں؟
کمیٹی میں اہم وفاقی اداروں کے اعلیٰ حکام شامل کیے گئے ہیں۔ جن میں سیکرٹری خزانہ سیکرٹری قانون سیکرٹری منصوبہ بندی سیکرٹری ایس آئی ایف سی سیکرٹری آئی ٹی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشنسیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ اس کے علاوہ چیئرمین ایس ای سی پی، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین سی سی پی، ایم ڈی پیپرا، ڈی جی ٹیکس پالیسی آفس اور ایڈیشنل آڈیٹر جنرل بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ کمیٹی کے سیکرٹری کے فرائض انجام دیں گے۔ جبکہ وزارت خزانہ سیکرٹریل معاونت فراہم کرے گی۔
آئی ایم ایف رپورٹ میں کیا کہا گیا؟
واضح رہے۔ کہ گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ رپورٹ نومبر 2025 میں جاری کی گئی تھی۔ رپورٹ میں آئی ایم ایف نے کہا تھا۔ کہ اگر پاکستان گورننس کے نظام میں بہتری لاتا ہے۔ تو وہ نمایاں معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔
گورننس اصلاحات سے ممکنہ معاشی فوائد
آئی ایم ایف کے مطابق گورننس اصلاحات کے پیکج پر مؤثر عملدرآمد سے پاکستان کی جی ڈی پی میں پانچ سے ساڑھے چھ فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اصلاحات سرمایہ کاری کے فروغ، شفافیت اور معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
نتیجہ
اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام حکومت کی جانب سے گورننس خامیوں کے اعتراف اور اصلاحی اقدامات کی سنجیدہ کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر سفارشات پر مؤثر عملدرآمد کیا گیا تو یہ اقدام پاکستان کی معاشی بہتری کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
انتہائی گرم چائے اور کافی صحت کیلئے خطرہ، غذائی نالی کے کینسر کا خدشہ











