عمران خان کی صحت پر پارٹی علیمہ خان کے ساتھ کھڑی رہے گی: معاون خصوصی کے پی تعمیراتی بے ترتیبی کے خاتمے کے لیے ’ون پنجاب، ون اسٹینڈرڈ، ون ڈیزائن‘ پالیسی منظور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 2 مارچ کو طلب، صدر زرداری 9ویں بار خطاب کریں گے آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں پر تشویش، رول اوور میں کوئی مسئلہ نہیں: وزیر خزانہ
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

انتہائی گرم چائے اور کافی صحت کیلئے خطرہ، غذائی نالی کے کینسر کا خدشہ

Drinking very hot tea and coffee health risks

گرم مشروبات: سکون یا خاموش نقصان؟

چائے اور کافی کو عام طور پر ذہنی سکون اور تازگی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر ماہرینِ صحت خبردار کرتے ہیں۔ کہ اگر یہ مشروبات حد سے زیادہ گرم حالت میں پئے جائیں تو صحت کیلئے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

غذائی نالی کیوں زیادہ حساس ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق غذائی نالی معدے کے مقابلے میں نہایت نازک اور حساس ہوتی ہے۔ بار بار بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سے اس کی اندرونی سطح کو جلن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو ابتدا میں محسوس نہیں ہوتی مگر وقت کے ساتھ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے؟

برطانیہ کے بائیو بینک میں کی گئی۔ ایک جامع تحقیق کے مطابق طویل عرصے تک انتہائی گرم مشروبات پینے والے افراد میں غذائی نالی کے سرطان کے امکانات نمایاں طور پر زیادہ پائے گئے۔ تحقیق میں واضح کیا گیا۔ کہ خطرے کی اصل وجہ کسی خاص جزو نہیں بلکہ زیادہ درجۂ حرارت ہے۔

کن ممالک میں خطرہ زیادہ ہے؟

مطالعے کے مطابق دنیا کے وہ خطے جہاں لوگ اُبلتے یا بھاپ چھوڑتے ہوئے مشروبات پینے کے عادی ہیں۔ وہاں غذائی نالی کے کینسر کی شرح زیادہ دیکھی گئی ہے۔ یہ مسئلہ کسی ایک ملک یا علاقے تک محدود نہیں۔

مسلسل جلن کیسے کینسر کا باعث بنتی ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے۔ کہ جب غذائی نالی بار بار شدید گرمی کا سامنا کرتی ہے۔ تو اس کے خلیے بار بار جلنے اور ٹھیک ہونے کے عمل سے گزرتے ہیں۔ یہ مسلسل جلن وقت کے ساتھ خلیوں کے رویے میں تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔ جو سرطان کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

بڑے گھونٹ زیادہ نقصان دہ کیوں؟

تحقیق کے مطابق بڑے گھونٹ پینا زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ گرم مشروب زیادہ دیر تک غذائی نالی کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔ جس سے اندرونی بافتوں کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔

روزانہ کتنی مقدار خطرناک ہے؟

ماہرین کے مطابق روزانہ آٹھ یا اس سے زائد انتہائی گرم مشروبات پینے والوں میں خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ تاہم اگر مقدار کم بھی ہو مگر درجۂ حرارت بہت زیادہ ہو تو نقصان کا خدشہ برقرار رہتا ہے۔

تھرماس اور تھرمل مگ کا پوشیدہ خطرہ

جدید تھرماس اور تھرمل مگ مشروبات کو طویل وقت تک گرم رکھتے ہیں۔ جس کے باعث ایک ہی کپ دن بھر غذائی نالی کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر اسے وقفے وقفے سے پیا جائے۔

محفوظ طریقے کون سے ہیں؟

ماہرین صحت درج ذیل احتیاطی تدابیر تجویز کرتے ہیں۔ چائے یا کافی پینے سے پہلے چند منٹ انتظار کریں۔ کپ کو چمچ سے ہلائیں تاکہ بھاپ نکل جائے دودھ یا تھوڑا سا ٹھنڈا پانی شامل کریں ڈھکن کھول کر مشروب کو ٹھنڈا ہونے دیں تحقیق کے مطابق تقریباً اٹھاون ڈگری سینٹی گریڈ پر مشروب پینا نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

نتیجہ

طبی ماہرین کا کہنا ہے۔ کہ بظاہر معمولی لگنے والی یہ عادت طویل مدت میں غذائی نالی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ مشروبات کو مناسب درجۂ حرارت پر پینا نہ صرف کینسر جیسے موذی مرض کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ بلکہ مجموعی صحت کے لیے بھی مفید ہے۔
مزید پڑھیں
بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ، اسلحہ کی نمائش اور کالے شیشوں والی گاڑیوں پر پابندی

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین