سرچ اور ریسکیو آپریشن مکمل
کراچی میں آتشزدگی سے متاثرہ گل پلازہ میں سرچ اور ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اب ملبے تلے کسی فرد کے دبے ہونے کا خدشہ نہیں رہا۔
عمارت لوہے کی شٹرنگ سے محفوظ
انتظامیہ نے گل پلازہ کو لوہے کی شٹرنگ لگا کر محفوظ کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے ورثا اور دکاندار اگر اندر جانا چاہیں تو انہیں محفوظ طریقے سے اندر لے جایا جائے گا۔
تحقیقات کا آغاز، غفلت کے پہلو زیرِ غور
حکام کے مطابق سانحے کی باقاعدہ تحقیقات جاری ہیں اور غفلت و لاپرواہی کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جائے گا، خاص طور پر یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آگ لگنے کے بعد بھی دروازے کیوں نہیں کھولے گئے۔
ایف آئی آر کی تفصیلات سامنے آگئیں
سانحہ گل پلازہ پر 23 جنوری کو درج ایف آئی آر کی کاپی منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق آگ 17 جنوری کو رات 10 بج کر 15 منٹ پر لگی تھی۔
ایمرجنسی انتظامات نہ ہونے کا انکشاف
ایف آئی آر کے متن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمارت میں آگ بجھانے کا مؤثر نظام موجود نہیں تھا ایمرجنسی ایگزٹ نہیں تھا کئی دروازے بند تھے بجلی بند ہونے سے لوگوں کو باہر نکلنے میں شدید مشکلات پیش آئیں سرکاری مدعیت میں درج ایف آئی آر میں قتلِ خطا سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔
جاں بحق افراد کی شناخت
حکام کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق 73 افراد میں سے 23 کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ باقی افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
مزید پڑھیں
ایم کیو ایم پاکستان کے وزرا اور اراکین اسمبلی کی سکیورٹی واپس، بڑا فیصلہ










