ایران جنگ میں امریکا کو بڑا نقصان، فضائی فیول ٹینکر طیارہ تباہ وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے اہم ملاقات، آزمائشی حالات میں مکمل یکجہتی کا اعادہ فجیرا سے پاک نیوی کی سکیورٹی میں 2 جہاز 10 سے 12 کروڑ لیٹر تیل لے کر کراچی پہنچ گئے عالمی منڈی میں خام تیل 10 فیصد مہنگا، برینٹ کروڈ 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کو اصلاحات کے تسلسل کی یقین دہانی کرا دی

Finance Minister Muhammad Aurangzeb meeting IMF Managing Director Kristalina Georgieva in Washington

واشنگٹن میں اہم ملاقات

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے موسم بہار اجلاس کے سائیڈ لائن پر ہوئی، جس میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاشی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسٹاف لیول معاہدے پر اظہار تشکر

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے اسٹاف سطح کے معاہدے پر آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا اور معاہدے کی اہمیت کو سراہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان اصلاحاتی پروگرام پر کاربند ہے اور اس عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

اصلاحاتی ایجنڈے پر زور

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف سربراہ کو بتایا کہ حکومت ٹیکس نظام میں بہتری، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری کے فروغ، سرکاری اداروں کی بہتری، پنشن نظام میں اصلاحات اور قرضوں کے مؤثر انتظام پر بھرپور کام کر رہی ہے۔ انہوں نے ان شعبوں میں جاری اصلاحاتی کوششوں کو تفصیل سے اُجاگر کیا۔

ورلڈ بینک کے ساتھ شراکت داری

وزیر خزانہ نے ورلڈ بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کی اہمیت پر بھی زور دیا، جس کے تحت پاکستان کو ترقیاتی پروگرامز میں تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

وزیرِاعظم کی دعوت

ملاقات کے اختتام پر محمد اورنگزیب نے وزیرِاعظم پاکستان کی جانب سے کرسٹالینا جورجیوا کو دورہ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

نتیجہ

پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات کا مضبوط ہونا نہایت اہم ہے۔ وزیر خزانہ کی جانب سے اصلاحات کے تسلسل کی یقین دہانی ایک مثبت قدم ہے، جو مستقبل میں سرمایہ کاری اور مالیاتی استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ان اصلاحات کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو پاکستان اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

مذید پڑھیں

فصلوں کے اعتبار سے سال انتہائی خراب رہا، اسد عمر

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین