لاہور میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کا افسوسناک واقعہ
لاہور میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ فاطمہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کے معاملے میں پولیس تحقیقات کے بعد اہم انکشافات سامنے آگئے ہیں۔ واقعے نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
پولیس تحقیقات میں ذاتی مسئلہ سامنے آگیا
پولیس ذرائع کے مطابق طالبہ فاطمہ کا تعلق نارنگ منڈی سے تھا اور وہ احمد نامی نوجوان کو پسند کرتی تھی۔ فاطمہ کی خواہش تھی کہ اس کی شادی اسی نوجوان سے ہو، تاہم اہل خانہ اس رشتے پر رضامند نہیں تھے۔
گھر والوں کا تعلیم پر زور، شادی سے انکار
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاطمہ کے والدین اس کی تعلیم جاری رکھوانا چاہتے تھے اور اسی وجہ سے پسند کی شادی کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ اسی گھریلو دباؤ کے باعث طالبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔
خودکشی کی کوشش سے قبل آخری کال
تحقیقات کے مطابق فاطمہ نے یونیورسٹی کی عمارت سے چھلانگ لگانے سے قبل آخری فون کال احمد نامی لڑکے سے کی تھی۔ کال کے فوراً بعد اس نے موبائل فون سے احمد کا نمبر بھی ڈیلیٹ کر دیا، جو تفتیش میں ایک اہم نکتہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اہل خانہ کا بیان، مزید تفتیش جاری
پولیس کے مطابق طالبہ کے اہل خانہ نے اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے ہیں۔ واقعے کے تمام پہلوؤں سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
طالبہ کی حالت تشویشناک، علاج جاری
پولیس نے بتایا کہ طالبہ اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے، تاہم تاحال اسے ہوش نہیں آیا۔ ڈاکٹروں کی جانب سے اس کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔
مزید پڑھیں
سیاسی افواہوں کی تردید، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل میں کوئی اختلاف نہیں: ذرائع











