پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں؟چیئرمین پی سی بی کی وزیراعظم سے اہم ملاقات پریس کلب لاہور الیکشن: جرنلسٹ گروپ نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی،ٹرمپ بورڈ آف پیس میں مسئلہ کشمیر بھی اٹھا سکتے ہیں سہیل آفریدی کا سخت ردعمل،تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

ایف بی آر پریشان، 10 لاکھ ٹیکس دہندگان نے آمدن صفر ظاہر کر دی

FBR receives 5.5 million tax returns, audit plan for underreported income۔ FBR income tax returns

ایف بی آر کو 55 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرنز موصول

اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو رواں مالی سال میں اب تک 55 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرنز موصول ہو چکے ہیں۔ تاہم، ان میں سے ایک بڑی تعداد میں ٹیکس دہندگان نے اپنی آمدن صفر یا برائے نام ظاہر کی ہے۔ جس پر ایف بی آر نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

لاکھوں ریٹرنز میں کم آمدن یا نقصان ظاہر

رپورٹس کے مطابق، تقریباً 10 لاکھ ٹیکس دہندگان نے پچھلے مالی سال کے مقابلے میں کم آمدن ظاہر کی ہے۔ جب کہ کچھ برآمد کنندگان نے نقصان ظاہر کیا ہے۔ FBR کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے۔ کہ یہ رجحان ٹیکس چوری یا آمدن چھپانے کی نشاندہی کرتا ہے۔ جس پر ادارہ سخت کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایف بی آر کا بڑے پیمانے پر آڈٹ پلان تیار

ایف بی آر نے خطرے کی گھنٹی بجنے کے بعد بڑے پیمانے پر آڈٹ پلان تیار کر لیا ہے۔ ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، تقریباً 9 لاکھ 77 ہزار ریٹرنز میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کم آمدن ظاہر کی گئی ہے۔ ایف بی آر نے فیصلہ کیا ہے۔ کہ 31 اکتوبر 2025 کی آخری تاریخ گزرنے کے بعد ایسے تمام ٹیکس دہندگان کو نوٹسز بھیجے جائیں گے۔ تاکہ وہ اپنی ریٹرنز درست کر سکیں۔ بصورتِ دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

17 لاکھ سے زائد ریٹرنز میں صفر آمدن

اب تک موصول ہونے والے 55 لاکھ ریٹرنز میں سے 17 لاکھ سے زائد ریٹرنز میں صفر یا برائے نام آمدن ظاہر کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق، اگرچہ یہ ریٹرنز بظاہر کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ مگر ان سے حاصل ہونے والا مالیاتی ڈیٹا ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ایف بی آر اس ڈیٹا کو مستقبل میں قابلِ ٹیکس آمدن میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ٹیکس دہندگان کو یاد دہانی اور وارننگ پیغامات

ایف بی آر نے ریٹرن فائلرز کو تین مراحل میں پیغامات ارسال کیے جن میں بروقت ریٹرنز جمع کرانے کی یاد دہانی کرائی گئی۔ آخری تاریخ گزرنے کے بعد ادارہ ان تمام فائلرز کو نوٹس نما پیغام بھیجے گا۔ جنہوں نے پچھلے سال کے مقابلے میں کم آمدن ظاہر کی۔ اس مقصد کے لیے ایف بی آر نے 2000 آڈیٹرز کی خدمات حاصل کی ہیں۔ تاکہ موجودہ مالی سال کا مؤثر آڈٹ ممکن بنایا جا سکے۔

چیئرمین ایف بی آر کا مؤقف

چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ ایف بی آر نے 8 لاکھ 53 ہزار ریٹرن فائلرز کو پیغامات ارسال کیے جن میں انہیں آگاہ کیا گیا۔ کہ ٹیکس مشینری کے پاس ان کے مالی لین دین، بینک ریکارڈ اور دیگر تفصیلات کا مکمل ڈیٹا موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا۔ کہ ہم نے ان پیغامات میں ایک اندازاً آمدن بھی ظاہر کی ہے اور ٹیکس دہندگان کو مشورہ دیا ہے۔ کہ وہ اپنی ریٹرنز مکمل احتیاط سے جمع کرائیں۔

مزید پڑھیں

پی ٹی آئی خطرے میں! سہیل آفریدی اور جنید اکبر کا جارحانہ موڈ

 

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

مقبول پوسٹس

اشتہار

بلیک فرائیڈے

سماجی اشتراک

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

:متعلقہ مضامین