آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد، شہری خوف میں مبتلا
کراچی میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صرف گزشتہ پانچ دنوں کے دوران شہر بھر میں 859 افراد کو کتوں کے کاٹنے کے بعد اسپتالوں سے رجوع کرنا پڑا، جس نے شہریوں اور طبی ماہرین دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
بڑے اسپتالوں میں سینکڑوں کیسز رپورٹ
تفصیلات کے مطابق کورنگی کے ایک نجی اسپتال میں پانچ دن کے دوران کم از کم 300 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ سول اسپتال اور جناح اسپتال میں بھی 300 سے زائد افراد کتوں کے کاٹنے کے باعث طبی امداد کے لیے لائے گئے۔ اسپتالوں میں مریضوں کا دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔
متاثرہ علاقوں کی نشاندہی
ڈاگ بائٹ کلینک کے انچارج ڈاکٹر آفتاب گوہر کے مطابق سب سے زیادہ کیسز کورنگی، حب چوکی، بلدیہ، لانڈھی اور گڈاپ کے علاقوں سے سامنے آئے ہیں۔ ان علاقوں میں آوارہ کتوں کی موجودگی شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
انفیکشن کے باعث انگلی کاٹنا پڑ گئی
ایک افسوسناک واقعے میں کورنگی کے نجی اسپتال میں لائے گئے 41 سالہ شخص کو آوارہ کتے کے کاٹنے کے بعد شدید انفیکشن ہوگیا، جس کے باعث ڈاکٹروں کو اس کی انگلی کاٹنا پڑی۔ یہ واقعہ اس خطرے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
ریبیز کی علامات جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں
ڈاکٹر آفتاب گوہر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ریبیز کی علامات ظاہر ہو جائیں تو یہ بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر زخم کو دھوئیں، قریبی اسپتال سے رجوع کریں اور اینٹی ریبیز ویکسین لازمی لگوائیں۔
شہریوں سے فوری احتیاطی اقدامات کی اپیل
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ حکومت اور بلدیاتی اداروں کو آوارہ کتوں کی تعداد پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں، جبکہ شہریوں کو بھی محتاط رہنے اور کسی بھی واقعے کو نظرانداز نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
ریاست سے ٹکراؤ جاری رہا تو پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت کو نقصان ہوگا: رانا ثنا











