سردیوں کا موسم عام افراد کے لیے خوشگوار ہو سکتا ہے، مگر دل کے مریضوں کے لیے یہ وقت خاص احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ درجۂ حرارت میں اچانک کمی، دھند اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں دل سے جڑے مسائل کے خطرات میں اضافہ کر دیتی ہیں۔
سردی اور دل کا دباؤ
ماہرینِ امراضِ قلب کے مطابق سرد موسم میں خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔ دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، جو کمزور دل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ دل کی دھڑکن بھی تیز ہو جاتی ہے۔
گرم لباس کی اہمیت
سردیوں میں مناسب اور گرم لباس دل کے مریضوں کے لیے پہلی حفاظتی دیوار ہے۔ خاص طور پر سینہ، گردن، سر اور ہاتھ پاؤں کو ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے، جبکہ صبح سویرے اور رات کے وقت غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز بہتر ہوتا ہے۔
متوازن غذا کا انتخاب
سرد موسم میں مرغن اور چکنائی سے بھرپور غذا دل کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین نمک اور چکنائی کم رکھنے، سبزیوں، پھلوں، دالوں اور فائبر سے بھرپور غذا کو ترجیح دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔
بلڈ پریشر اور شوگر پر نظر
سردیوں میں بلڈ پریشر اور شوگر لیول میں اتار چڑھاؤ عام ہے، اس لیے باقاعدہ چیک اپ ضروری ہے۔ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے ادویات میں تبدیلی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ہلکی ورزش اور پانی کا استعمال
سردی کے باعث جسمانی سرگرمی کم ہو جانا دل کے مسائل بڑھا سکتا ہے۔ ہلکی ورزش، گھر کے اندر واک اور اسٹریچنگ مفید ہے، جبکہ پانی کم پینا خون کو گاڑھا کر کے دل پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
خطرے کی علامات
سینے میں درد، سانس کی تکلیف، غیر معمولی پسینہ یا دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ بروقت طبی امداد جان بچا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کا غزہ بورڈ آف پیس سے متعلق متفقہ اعلان











