لیاقت باغ میں تاریخی سانحہ
راولپنڈی: آج پاکستان میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور 23 کارکنوں کی شہادت کے سانحہ لیاقت باغ کی 18 ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ 27 دسمبر 2007 کو ہونے والے اس سانحے میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ متعدد کارکنان شہید ہوئے۔ جس کا سیاسی اور تاریخی اثر آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔
شہادت کے محرکات اور تحقیقات
سانحے کے اصل محرکات آج تک مکمل طور پر سامنے نہیں آسکے، اور محترمہ کے ہمراہ شہید ہونے والے کارکنان کے حقیقی قاتل ابھی تک بے نقاب نہیں ہوئے۔ لیاقت باغ میں پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے قاتل بھی آج تک سامنے نہیں آئے، اور سکاٹ لینڈ یارڈ بھی قاتلوں کو بے نقاب نہیں کر سکا۔
خاندانوں کا عزم اور وابستگی
شہید ہونے والے کارکنوں کے خاندان آج بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس سانحے کو یاد رکھ کر عزت اور قربانی کی مثال قائم کر رہے ہیں۔ شہید ہونے والے کارکنوں میں رفیق رضا، نعیم اختر، نعیم اصغر، اصف ثمر، ذوالفقار علی، توقیر اکرم، محمد بشیر، جاوید اقبال، راجہ حبیب، بشیر احمد، محمد شفیق، ظہیر احمد، چوہدری حاکم، راجہ آمین، نذر احمد، ساجد علی، جمیل احمد، ممتا ز حسین، ساجد محمود اور مظہر تنویر شامل ہیں۔ جبکہ بعدازاں انور خان، نذیر بٹ، سراج خان، چوہدری غوث اور راجہ افراز بھی شہید ہوئے۔
زخمی اور یتیم ہونے والے افراد کی یادیں
2007 میں یتیم ہونے والے بچے اب جوان ہو چکے ہیں۔ اور زخمی ہونے والے اختر سعید، حسنین اشرف، الطاف بٹ، حاجی خالد، راجہ ریاض اور عذیر بٹ آج بھی اس سانحے اور بے نظیر بھٹو کو یاد کر کے افسردہ رہتے ہیں۔
برسی کی تیاریاں اور یادگار کی کمی
لیاقت باغ میں آج بھی جائے شہادت پر یادگار تعمیر نہیں ہو سکی۔ تاہم اہل خانہ آج کا دن غم میں ڈوب کر گزاریں گے اور اپنے شہداء کو یاد کر کے عقیدت پیش کریں گے۔
مزید پڑھیں
چکنائی سے بھرپور پنیر کون سی خطرناک بیماری سے بچا سکتا ہے؟ جانیں فائدے











