امریکا و اسرائیل کے سامنے ہرگز سرنڈر نہیں کریں گے: ایرانی صدر کا دوٹوک اعلان بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون و راکٹ حملوں کی بارش، شدید حملے کی اطلاعات نیٹو پر اربوں خرچ کیے مگر دفاع میں ساتھ نہیں، آبنائے ہرمز پر مدد نہ ملنے پر ٹرمپ کے شکوے خارگ پر حملہ ہوا تو متعلقہ ملک کی آئل تنصیبات نشانہ بنیں گی: ایران
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون و راکٹ حملوں کی بارش، شدید حملے کی اطلاعات

drone and rocket attack on US embassy Baghdad

بغداد میں امریکی سفارتخانے پر شدید حملہ

بغداد میں امریکی سفارتخانے کو ڈرون اور راکٹ حملوں کی شدید لہر کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جسے حالیہ عرصے کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حملے کی شدت

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا۔ کہ یہ حملہ حالیہ واقعات میں سب سے زیادہ شدید تھا۔ جس نے سکیورٹی صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔

سکیورٹی الرٹ جاری

رپورٹس کے مطابق حملوں سے چند گھنٹے قبل امریکی سفارتخانے نے عراق میں موجود اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا اور ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا تھا۔

خطرے کی وجہ

الرٹ میں بتایا گیا تھا۔ کہ ایران سے منسلک گروہ بغداد کے انٹرنیشنل زون کو بار بار نشانہ بنا رہے ہیں۔ جس سے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

موجودہ صورتحال

تاحال جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ تاہم سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے کر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرین زون اور قریبی علاقوں میں مزید ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی فوجی اور حفاظتی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ شہریوں اور سفارتی عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے راستے بند کیے گئے ہیں اور سیکیورٹی چیک پوائنٹس سخت کر دیے گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے۔ کہ حملے کے فوری بعد کی گئی یہ تدابیر خطے میں کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے اور ممکنہ جانی و مالی نقصانات کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ مزید معلومات کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے آنے والے سرکاری بیانات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں
امریکا و اسرائیل کے سامنے ہرگز سرنڈر نہیں کریں گے: ایرانی صدر کا دوٹوک اعلان

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین