وزیراعلیٰ پنجاب نے 47 ارب روپے کے رمضان نگہبان پیکج کی منظوری دیدی ایم کیو ایم پاکستان کے وزرا اور اراکین اسمبلی کی سکیورٹی واپس، بڑا فیصلہ گل پلازہ سانحہ: ریسکیو کارروائی مکمل،عمارت کو لوہے کی شٹرنگ سے محفوظ انڈر 19 ورلڈ کپ: سیمی فائنل کی راہ میں آج پاکستان کا کڑا امتحان
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

ایشیا میں دل کی بیماریوں کی بڑی وجوہات: فضائی آلودگی اور ناقص غذا

Impact of air pollution and poor diet on heart health in Asia

فضائی آلودگی اور صحت کا گہرا تعلق

حالیہ سائنسی تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ایشیا میں فضائی آلودگی دل کی بیماریوں (Cardiovascular Diseases) کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، ہر سال تقریباً 70 لاکھ افراد فضائی آلودگی سے جڑی بیماریوں جیسے دل کی بیماریاں، فالج، اور پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار ہو جاتے ہیں۔

جنوبی ایشیا میں آلودگی کی سنگین صورتحال

بھارت اور پاکستان جیسے ممالک میں PM2.5 کی سطح محفوظ حد سے 20 گنا زیادہ پائی گئی ہے، جو دل کی بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ سمجھی جا رہی ہے۔ چین کے صوبے جیانگسو میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شدید گرمی اور فضائی آلودگی کا امتزاج دل کے دورے کے خطرے کو دوگنا کر دیتا ہے، خاص طور پر 80 سال سے زائد عمر کے افراد اور خواتین میں۔

ناقص خوراک کا دل پر اثر

زیادہ چکنائی، نمک اور شکر والی خوراک دل کی بیماریوں کا خطرہ مزید بڑھا دیتی ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب ناقص خوراک اور فضائی آلودگی ایک ساتھ موجود ہوں تو موت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

حفاظتی اقدامات اور ممکنہ حل

ماہرین کا کہنا ہے کہ سبزیوں، پھلوں، اور سویا بینز جیسی غذاؤں کا باقاعدہ استعمال نہ صرف دل کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ فضائی آلودگی کے منفی اثرات کو بھی کم کرتا ہے۔ متوازن خوراک اور صاف ہوا تک رسائی دل کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اہم ہے۔

نتیجہ

فضائی آلودگی اور ناقص خوراک ایشیا میں دل کی بیماریوں کے اہم محرک بن چکے ہیں۔ ان خطرات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگ اپنی خوراک پر توجہ دیں اور حکومتیں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

مزید پڑھیں

کینیڈا میں تتلی کی نئی اور نایاب نسل کی دریافت

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین