امریکا کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے بعد بین البراعظمی بیلسٹک میزائل “Minuteman III” کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ عالمی سطح پر امریکہ کی اسٹریٹجک دفاعی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اس آزمائش نے دنیا بھر میں سیکیورٹی اور فوجی توازن کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
میزائل کا سفر اور ہدف
امریکی ائیر فورس کے مطابق، میزائل کو کیلیفورنیا میں موجود وینڈن برگ اسپیس فورس بیس سے فائر کیا گیا۔ اس نے تقریباً 4,200 میل کا طویل فاصلہ طے کرنے کے بعد مارشل جزائر میں رونالڈ ریگن بیلسٹک میزائل ڈیفنس ٹیسٹ سائٹ پر ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ یہ درستگی اس کی تکنیکی مہارت کی واضح مثال ہے۔
تجربے کا مقصد دفاعی صلاحیت جانچنا
امریکی حکام کے مطابق یہ تجربہ GT 254 سیریز کا حصہ تھا، جس کا مقصد امریکا کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے دفاعی میزائل نظام کی درستگی، کارکردگی اور تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ اس نوعیت کے تجربات دفاعی نظام کو اپ گریڈ رکھنے اور عملی ضرورتوں کے مطابق تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
غیر مسلح میزائل اور ڈیٹا ری کارڈنگ
تجربے کے دوران میزائل کو غیر مسلح رکھا گیا تھا۔ اس میں خصوصی ری انٹری وہیکل نصب تھا، جو فضا میں دوبارہ داخل ہو کر تکنیکی اور پرواز سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے۔ حکام کے مطابق اس کا مقصد محض ٹیکنیکل معلومات حاصل کرنا تھا، نہ کہ کسی عملی حملے کی تیاری۔
ٹرمپ کے حکم کے بعد عالمی ردعمل
یہ تجربہ اس وقت عالمی توجہ کا باعث بنا جب صدر ٹرمپ نے تین دہائیوں بعد جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت جاری کی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا کو اپنی دفاعی برتری برقرار رکھنے کے لیے یہ قدم ضروری ہے۔ تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ عالمی سطح پر ہتھیاروں کی نئی دوڑ کو جنم دے سکتا ہے۔
Minuteman III کی دفاعی اہمیت
Minuteman III میزائل امریکا کے جوہری ڈیٹرنس سسٹم کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ دفاعی حکمت عملی میں اس کا کردار دشمن کو ممکنہ حملے سے باز رکھنا ہے۔ اسے ایسے حالات میں استعمال کے لیے تیار رکھا جاتا ہے جب امریکا پر کسی دشمن کی جانب سے ایٹمی حملے کا امکان ہو۔
مزید پڑھیں
امریکی صدر کا دعویٰ: پاک بھارت جنگ میں 8 طیارے مار گرائے گئے











