ٹرمپ کا دعویٰ
میامی میں ایک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران 8 طیارے گرائے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس بیان نے عالمی میڈیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کیونکہ اس سے قبل اس حوالے سے مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔
ٹرمپ کا بیان اور جنگی تناظر
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں مختلف اخبارات میں یہ رپورٹس دیکھنے کو ملیں کہ 7 یا 8 طیارے جنگ کے دوران مار گرائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی اخبار کا نام نہیں لیں گے کیونکہ ان کے مطابق “زیادہ تر جھوٹی خبریں دیتے ہیں”، تاہم انہوں نے اپنے دعوے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حقیقت میں 8 طیارے گرائے گئے تھے۔
میڈیا رپورٹس میں اختلاف
پاک بھارت کشیدگی کے دوران میڈیا رپورٹس میں پہلے بھی تضادات رہے ہیں۔ بعض بھارتی میڈیا نے کم نقصان دکھایا۔ جبکہ بعض رپورٹس میں زیادہ نقصان کا ذکر کیا گیا۔ ٹرمپ کے تازہ بیان نے ان پرانی خبروں کی صداقت پر ایک بار پھر سوال اٹھا دیا ہے۔
جنگ روکنے کا کریڈٹ
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا۔ کہ دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ انہوں نے روکی۔ ان کے مطابق انہوں نے “ٹیرف اور سفارتی حکمت” کے ذریعے صورتحال کو سنبھالا۔ اس بیان پر پہلے بھی بحث ہوتی رہی ہے۔ کہ آیا ٹرمپ کی مداخلت واقعی فیصلہ کن تھی یا نہیں۔
پاکستان اور بھارت کی خاموشی
ٹرمپ کے دعوے پر پاکستان یا بھارت کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دونوں ممالک عام طور پر اس موضوع پر محتاط بیانات دیتے ہیں۔ خاص طور پر ایسی صورت میں جب معاملہ عالمی سطح پر زیر بحث آ جائے۔
بیانات کے اثرات اور سفارتی ماحول
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کی سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی حساس ہے۔ ٹرمپ کے اس مؤقف سے خطے کی سفارتی گفتگو میں ایک نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ دونوں ممالک ایٹمی قوت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں
ٹرمپ کا فیصلہ: امریکا نے 30 سال بعد ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کیے











