شیری رحمان کا 27 ویں آئینی ترمیم پر اہم بیان
ملک میں 27 ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر سیاسی گفتگو جاری ہے اور پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے اس سلسلے میں اپنا واضح موقف سامنے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صوبوں کے حقوق اور صوبائی خود مختاری ایسے معاملات ہیں جن پر کوئی یکطرفہ فیصلہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔
مسودہ شیئر ہونے کے بعد پارٹی میں مشاورت
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ جب حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ پیپلز پارٹی کے ساتھ شیئر کیا تو چیئرمین بلاول بھٹو نے اسے عوام اور پارٹی کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق، ایسی آئینی تبدیلیوں پر فیصلہ کسی بند کمرے میں نہیں بلکہ کھلی سیاسی مشاورت کے ذریعے ہونا چاہیے۔
این ایف سی ایوارڈ پر مضبوط مؤقف
انہوں نے کہا کہ پارٹی این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے اپنا حتمی مؤقف سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وسائل کی تقسیم اور صوبوں کی مالی خود مختاری ایک حساس موضوع ہے، اس پر کوئی غیرمتفقہ قدم نہ لیا جائے۔
صوبائی خودمختاری سرخ لکیر قرار
شیری رحمان نے واضح کیا کہ صوبائی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ صوبوں کے حقوق کی محافظ رہی ہے اور آج بھی اسی اصول پر کھڑی ہے۔ ان کے مطابق، حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر جماعت کی ایک الگ سیاسی شناخت اور پوزیشن ہوتی ہے۔
پی ٹی آئی کے مؤقف پر سوال
شیری رحمان نے پی ٹی آئی کے طرزِ عمل پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ صبح کچھ اور کہتی ہے اور شام کچھ اور۔ انہیں چاہیے کہ وہ کمیٹیوں میں آکر ذمہ دارانہ کردار ادا کریں، محض بیانات دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔
سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ آئینی معاملات ہمیشہ گفت و شنید اور اتفاق رائے سے طے ہوتے ہیں۔ ایسے حساس معاملات میں جلد بازی یا یکطرفہ فیصلے سیاسی تقسیم میں اضافہ کرتے ہیں۔ شیری رحمان نے کہا کہ حکومت کو ضرورت ہے کہ وہ وسیع تر مشاورت اور سنجیدہ مکالمہ شروع کرے۔
مزید پڑھیں











