رانا ثناءاللہ کا قانونی مؤقف
وزیراعظم کی مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے دعویٰ کیا ہے۔ کہ اگر خیبرپختونخوا کی کابینہ بانی تحریک انصاف عمران خان کے مشورے سے بنی ہے۔ تو وہ کالعدم قرار پائے گی۔ انہوں نے یہ بات جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
نواز شریف کیس کا حوالہ
رانا ثناءاللہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کیس کے سپریم کورٹ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ کہ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا۔ کہ اگر کوئی شخص مجرم قرار پاتا ہے۔ تو وہ کسی سیاسی جماعت کی قیادت یا مشاورت میں شامل نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ مشاورت کرتا ہے۔ تو اس بنیاد پر ہونے والے فیصلے قانونی طور پر کالعدم ہوں گے۔
بانی تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت پر سوال
رانا ثناء کے مطابق۔ چونکہ بانی تحریک انصاف عدالت سے مجرم قرار پا چکے ہیں۔ اس لیے ان کی کسی سیاسی فیصلے یا مشاورت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہتی۔ انہوں نے کہا۔ کہ اگر صوبائی کابینہ عمران خان کے مشورے سے تشکیل پائی ہے۔ تو وہ آئینی طور پر برقرار نہیں رہ سکتی۔
پی ٹی آئی رہنما کا ردعمل
پروگرام میں شریک تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر عمیر نیازی نے رانا ثناءاللہ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا۔ کہ اگر آپ سمجھتے ہیں۔ کہ عمران خان کی مشاورت غیرقانونی ہے۔ تو پہلے سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات کرائیں۔ پھر دیکھ لیتے ہیں۔ کہ عدالت اسے کالعدم قرار دیتی ہے یا نہیں۔
سیاسی محاذ پر نئی کشمکش
سیاسی ماہرین کے مطابق، رانا ثناءاللہ کے اس بیان سے مرکز اور صوبہ خیبرپختونخوا کے درمیان نئی آئینی اور سیاسی کشمکش جنم لے سکتی ہے۔ یہ معاملہ ممکنہ طور پر عدالتوں میں بھی جا سکتا ہے۔ جہاں یہ طے کیا جائے گا۔ کہ آیا عمران خان کی مشاورت سے بننے والی کابینہ واقعی کالعدم ہو سکتی ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیں











