ایران جنگ میں امریکا کو بڑا نقصان، فضائی فیول ٹینکر طیارہ تباہ وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے اہم ملاقات، آزمائشی حالات میں مکمل یکجہتی کا اعادہ فجیرا سے پاک نیوی کی سکیورٹی میں 2 جہاز 10 سے 12 کروڑ لیٹر تیل لے کر کراچی پہنچ گئے عالمی منڈی میں خام تیل 10 فیصد مہنگا، برینٹ کروڈ 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

سندھ کا گندم کی امدادی قیمت 4200 روپے فی من کرنے کا مطالبہ

Sindh government demands to set wheat support price at 4200 rupees per maund

پاکستان میں زرعی پالیسی کے حوالے سے ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جہاں سندھ حکومت نے وفاق سے گندم کی کم از کم امدادی قیمت 4200 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر زراعت کے مطابق یہ اقدام کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور پیداوار میں استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

آئی ایم ایف کی شرائط اور صوبائی حکومت کا مؤقف

سندھ کے وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث صوبائی حکومتیں وفاق کی منظوری کے بغیر کسانوں کے لیے امدادی قیمت مقرر نہیں کر سکتیں۔ ان کا کہنا تھا۔ کہ سندھ حکومت کسانوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

سندھ کا گندم اگاؤ سپورٹ پروگرام

وزیر زراعت نے بتایا۔ کہ سندھ حکومت نے گندم اگاؤ سپورٹ پروگرام کے تحت 56 ارب روپے کا امدادی پیکیج متعارف کرایا ہے۔ اس پروگرام کے تحت کسانوں کو کھاد، بیج اور دیگر زرعی سامان خریدنے کے لیے فی ایکڑ 24 ہزار 700 روپے سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔

وفاقی حکومت کی گندم پالیسی 2025-26 کی منظوری

گزشتہ روز وفاقی حکومت نے گندم پالیسی 2025-26 کی منظوری دی۔ جس کے مطابق گندم کی فی من قیمت 3500 روپے مقرر کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق اس پالیسی کا مقصد ملک میں گندم کی دستیابی کو یقینی بنانا اور کسانوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔

گندم کے اسٹریٹجک ذخائر اور بین الصوبائی نقل و حرکت

نئی پالیسی کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتیں 6.2 ملین ٹن گندم کے اسٹریٹجک ذخائر حاصل کریں گی۔ اس کے ساتھ ہی گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ تاکہ ملک بھر میں گندم کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔

نتیجہ

سندھ حکومت کا یہ مطالبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے۔ کہ صوبائی سطح پر کسانوں کے مسائل کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ اگر وفاقی حکومت اس مطالبے پر غور کرتی ہے تو اس سے زرعی شعبے کو مضبوطی ملے گی اور کسانوں کے مالی حالات میں بہتری آسکے گی۔

مزید پڑھیں

پرتگال میں عوامی مقامات پر نقاب پر پابندی کا بل منظور

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین