بلوچستان سے 8 لاکھ افغان مہاجرین افغانستان جاچکے، تقریباً 23 ہزار اب بھی کوئٹہ میں موجود جمائما گولڈ اسمتھ نے دوسری شادی کی تصاویر جاری کردیں، مداحوں کا شکریہ بھی ادا کیا سعودی عرب میں دہشتگردی اور قتل کے جرم میں پاکستانی شہری کو سزائے موت دے دی گئی یورپی یونین کا برطانیہ، کینیڈا، ناروے اور یوکرین کے ساتھ یورپی سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

پی ٹی آئی کے مزید 28 اراکین کا قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ

28 More PTI Lawmakers Resign from Standing Committees

اسلام آباد میں سیاسی ہلچل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مزید 28 اراکینِ قومی اسمبلی نے قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ استعفے موجودہ سیاسی صورتحال اور اسمبلی کے اندر اپوزیشن کے مؤقف کو مضبوط کرنے کے لیے دیے گئے ہیں۔

استعفوں کی تفصیلات

ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کے ان 28 اراکین نے باضابطہ طور پر اپنے استعفے اسپیکر کو جمع کروا دیے ہیں۔ یہ فیصلہ پارٹی قیادت کی مشاورت کے بعد کیا گیا، تاکہ حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھایا جا سکے۔

پارٹی کا مؤقف

پی ٹی آئی ترجمان نے کہا کہ یہ استعفے حکومت کی پالیسیوں اور پارلیمان میں عدم شفافیت کے خلاف احتجاج کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی اور عوامی نمائندوں کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔

پارلیمنٹ کی سرگرمیوں پر اثر

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان استعفوں سے پارلیمانی کارروائی پر نمایاں اثر پڑے گا۔ کمیٹیوں میں پی ٹی آئی کی نمائندگی کم ہو جانے کے بعد قانون سازی اور حکومتی فیصلوں پر اپوزیشن کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔

حکومت کا ردعمل

حکومتی نمائندوں نے پی ٹی آئی کے اس اقدام کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹیوں سے علیحدگی پارلیمنٹ کے نظام کو کمزور کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو پارلیمان کے اندر رہ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

عوامی رائے

عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ افراد اس اقدام کو حکومت کے خلاف سیاسی دباؤ بڑھانے کا موثر ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کو اسمبلی کے اندر عوام کے مسائل اجاگر کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

مستقبل کی حکمت عملی

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت مزید اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں پارلیمنٹ کے دیگر فورمز پر بائیکاٹ اور عوامی رابطہ مہم کا آغاز بھی شامل ہو سکتا ہے۔

اپوزیشن کی صف بندی

پی ٹی آئی کے اس فیصلے کے بعد دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی حکومتی پالیسیوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر غور کر رہی ہیں۔ یہ سیاسی کشمکش آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں

وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کی امداد اور منتقلی کی اپیل

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین