اگر استعفے سے کراچی بچتا ہے تو ابھی چھوڑنے کو تیار ہوں، مصطفیٰ کمال بالائی علاقوں میں برف کا قہر، رابطہ سڑکوں کی بندش، 2 افراد جاں بحق لاہور میں لٹکتی تاروں اور اوورلوڈ کیبلز کے مسئلے پر کمیٹی قائم
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

کیا پی ٹی آئی واقعی سنجیدہ ہے؟ حقیقت کچھ ہی دنوں میں عیاں ہو جائے گی

PTI Protest Croud with PTI Flag

تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں موجودگی اور کمیٹی کی اہمیت

تحریک انصاف قومی اسمبلی میں 155 نشستوں کے ساتھ ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پر موجود ہے، جبکہ ن لیگ کے پاس 85 اور پیپلز پارٹی کے پاس 54 نشستیں ہیں۔ تجزیہ کار عامر الیاس رانا کے مطابق عمران خان کی قیادت میں تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹی کا مینڈیٹ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم، کمیٹی کے اراکین کے مختلف بیانات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب اپنی الگ سمت میں کام کر رہے ہیں۔

عامر الیاس رانا کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر جیسے سنجیدہ افراد دھمکی آمیز لہجے میں بات کر رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بات چیت نہ کی گئی تو تحریک انصاف دوبارہ سڑکوں پر آ سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی سنجیدگی کا اندازہ چند دنوں میں ہو جائے گا۔

ملٹری ٹرائل اور جوڈیشل کمیشن کا معاملہ
تجزیہ کار شوکت پراچہ کے مطابق ملٹری ٹرائل کا مسئلہ پہلے ہی سپریم کورٹ کے زیر غور ہے اور عدالت نے اس پر حکم امتناع جاری کیا ہوا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 9 مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ اپنی جگہ موجود ہے، لیکن گزشتہ دنوں پیش آنے والی نئی پیش رفت نے ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ ان کے مطابق، مختلف حلقوں سے مسلسل مذاکرات کی باتیں کی جا رہی ہیں، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان بات چیت کا دائرہ کار کیا ہوگا۔

شوکت پراچہ کا مزید کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل میں تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان کچھ بڑے فیصلے یا معاہدے ہونا مشکل ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے حکومت پر کوئی خاص دباؤ نہیں کہ وہ تحریک انصاف سے بات کرے۔

مذاکرات کی نوعیت اور حکومت کی حیثیت
تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا کہ عمران خان کا اپنی مذاکراتی کمیٹی کو مینڈیٹ دینا ایک الگ معاملہ ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ مذاکرات کتنے اہم اور نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، مذاکرات زیادہ تر سطحی اور غیر اہم مسائل پر ہوں گے کیونکہ حکومت کے پاس تحریک انصاف کو دینے کے لیے کچھ خاص نہیں ہے۔

منیب فاروق نے مزید کہا کہ حکومت کو اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کوئی ایسا دباؤ محسوس نہیں ہو رہا جس کی بنیاد پر تحریک انصاف کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان کسی بڑی پیش رفت کی توقع کرنا قبل از وقت ہوگا۔

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین