اسرائیل میں 90 فیصد ووٹ گن لیے گئے، نیتن یاہو کے اتحاد کو اکثریت نہ مل سکی ملتان میں گھر میں آتشزدگی، خاتون اور 2 بیٹیاں جھلس کر جاں بحق
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

منکی پاکس نے کراچی میں ایک اور جان لے لی، ڈیڑھ سالہ بچہ جاں بحق

News report about a toddler dying from mpox in Karachi as Sindh's death toll reaches

کراچی میں منکی پاکس (ایم پاکس) سے متاثرہ ڈیڑھ سالہ بچہ دورانِ علاج جاں بحق ہوگیا، جس کے بعد سندھ میں رواں سال اس بیماری سے ہونے والی اموات کی تعداد 12 تک پہنچ گئی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بچے کا تعلق کراچی کے علاقے ملیر سے تھا اور طبیعت خراب ہونے پر اسے چند روز قبل ایک نجی اسپتال سے سندھ انفیکشس ڈیزیز اسپتال، نیپا منتقل کیا گیا تھا۔ اسپتال انتظامیہ نے بچے کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ صحت حکام کے مطابق سندھ میں رواں سال منکی پاکس کے مجموعی کیسز کی تعداد 98 ہوچکی ہے۔

کراچی میں منکی پاکس سے متاثرہ بچہ جاں بحق

کراچی میں منکی پاکس سے متاثرہ ڈیڑھ سالہ بچے کی موت نے ایک بار پھر متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ اور بچوں کی صحت کے حوالے سے تشویش پیدا کردی ہے۔ بچے کو تشویش ناک حالت میں نجی اسپتال سے سندھ انفیکشس ڈیزیز اسپتال، نیپا منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ زیرِ علاج تھا۔

اسپتال کے ترجمان نے بچے کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ منکی پاکس کے باعث جانبر نہ ہوسکا۔ واقعے کے بعد سندھ میں اس بیماری سے ہونے والی اموات کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔

سندھ میں منکی پاکس کے 98 کیسز رپورٹ

صحت حکام کے مطابق سندھ میں رواں سال منکی پاکس کے 98 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ کراچی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں اس بیماری کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں، جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی متاثرہ افراد کی نشاندہی ہوئی ہے۔

منکی پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی جسمانی رابطے، جلد پر موجود دانوں یا زخموں سے براہِ راست رابطے اور آلودہ کپڑوں، تولیوں یا بستر کے ذریعے پھیل سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں آلودہ طبی آلات بھی انفیکشن کی منتقلی کا سبب بن سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق شیر خوار بچوں، کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد اور دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو شدید پیچیدگیوں کا زیادہ خطرہ ہوسکتا ہے۔

نجی اسپتال میں انفیکشن کنٹرول انتظامات پر سوالات

کراچی کے علاقے ملیر میں واقع ایک نجی اسپتال کو منکی پاکس کے ایک شیر خوار مریض کے کیس کے بعد انفیکشن کنٹرول کے انتظامات سے متعلق خدشات پر سیل کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ حکام نے طبی مراکز میں صفائی، جراثیم سے پاک آلات اور مریضوں کی حفاظت کے انتظامات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

تاہم، کسی مخصوص مریض میں انفیکشن کی منتقلی کی حتمی وجہ جاننے کے لیے طبی ریکارڈ اور متعلقہ تحقیقات ضروری ہوتی ہیں۔ صحت کے مراکز میں آلات کو درست طریقے سے جراثیم سے پاک کرنا اور انفیکشن سے بچاؤ کے ضوابط پر عمل کرنا انتہائی اہم ہے، خصوصاً بچوں کے علاج اور جراحی کے دوران۔

منکی پاکس کی علامات اور احتیاطی تدابیر

منکی پاکس کی عام علامات میں بخار، جسم میں درد، لمف نوڈز کی سوجن اور جلد پر دانے، چھالے یا زخم شامل ہوسکتے ہیں۔ علامات کی نوعیت ہر مریض میں مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے مشتبہ علامات ظاہر ہونے پر طبی ماہر سے رجوع کرنا چاہیے۔

بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اہم ہیں:

متاثرہ یا مشتبہ شخص کے دانوں، چھالوں اور زخموں سے براہِ راست رابطے سے گریز کریں۔

متاثرہ شخص کے تولیے، کپڑے اور بستر جیسی ذاتی اشیا مشترکہ استعمال نہ کریں۔

طبی مراکز میں صفائی اور آلات کو جراثیم سے پاک کرنے کے ضوابط پر عمل یقینی بنائیں۔

مشتبہ مریض کو طبی مشورے کے مطابق دوسروں سے الگ رکھیں۔

علامات ظاہر ہونے کی صورت میں خود تشخیص یا خود علاج کرنے کے بجائے طبی مدد حاصل کریں۔

سندھ میں بیماری کی روک تھام کے لیے نگرانی ضروری

کراچی میں ایک اور بچے کی موت کے بعد سندھ میں منکی پاکس کی روک تھام کے لیے بیماری کی نگرانی، مریضوں کی بروقت تشخیص اور متاثرہ افراد سے قریبی رابطے میں رہنے والوں کی نشاندہی اہم ہوگئی ہے۔ صحت کے ماہرین کے مطابق کیسز کی مکمل تحقیقات اور طبی مراکز میں انفیکشن کنٹرول کے مؤثر انتظامات بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

سندھ میں رواں سال رپورٹ ہونے والے 98 کیسز اور 12 اموات کے اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیماری سے متعلق احتیاط اور بروقت طبی امداد ضروری ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طور پر مستند طبی مرکز سے رجوع کریں اور صحت حکام کی ہدایات پر عمل کریں
مزید پڑھیں
امریکا میں چیٹ جی پی ٹی کے مشورے پر دوا کی خوراک کم کرنے والی 31 سالہ خاتون جاں بحق

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین