امریکا میں مرگی کے مرض میں مبتلا 31 سالہ خاتون کی موت کے بعد مصنوعی ذہانت (AI) کے طبی مشوروں پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ سیئٹل سے تعلق رکھنے والی باؤن وان کے والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ان کی بیٹی کو مرگی کی دوا کی خوراک بتدریج کم کرکے مکمل طور پر بند کرنے کا منصوبہ دیا، جس پر عمل کرنے کے بعد وہ فروری 2026 میں انتقال کرگئیں۔ خاتون کے والدین نے اوپن اے آئی اور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔ تاہم، مقدمے میں عائد الزامات ابھی عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے۔
چیٹ جی پی ٹی کے مشورے پر دوا کی خوراک کم کرنے کا معاملہ
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق باؤن وان کئی برس سے مرگی کے مرض میں مبتلا تھیں اور دوروں کو قابو میں رکھنے کے لیے لیموٹریجین (Lamotrigine) نامی دوا استعمال کررہی تھیں۔ وہ روزانہ 400 ملی گرام دوا لیتی تھیں، تاہم انہیں خدشہ تھا کہ دواکےباعث ان کی یادداشت اور بولنے کی صلاحیت متاثر ہورہی ہے۔رپورٹس کے مطابق ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد انہیں نئی ملازمت کے لیے انٹرویوز کی تیاری کرنا تھی، جس کے باعث وہ اپنی گفتگو اور ذہنی کارکردگی کے بارے میں پریشان تھیں۔ اسی دوران انہوں نے چیٹ جی پی ٹی سے دوا کی خوراک کم کرنے کے بارے میں مشورہ لیا۔
والدین نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا
باؤن وان کے والدین، کون وان اور میکین شو، نے 27 اکتوبر 2026 کو اوپن اے آئی اور اس کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کے خلاف غلط موت سے متعلق مقدمہ دائر کیا۔
مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے صرف عمومی معلومات فراہم کرنے کے بجائے دوا کی خوراک کم کرنے کے لیے تفصیلی منصوبہ تیار کیا۔ والدین کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ چیٹ بوٹ نے ان کی بیٹی کو بعض علامات کے بارے میں تسلی دی اور مبینہ طور پر ڈاکٹروں سے دوا کم کرنے کے منصوبے کو چھپانے کی ترغیب دی۔
خاندان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ایسے مشوروں نے طبی فیصلوں کو متاثر کیا اور ان کی بیٹی کی موت میں کردار ادا کیا۔ تاہم، ان الزامات کی حقیقت اور قانونی ذمہ داری کا تعین عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔
دوا بند کرنے کے بعد صحت کی حالت بگڑنے کا الزام
مقدمے میں بیان کردہ تفصیلات کے مطابق دوا کی خوراک کم کرنے کے دوران باؤن وان کو الجھن، یادداشت میں دشواری اور دیگر غیر معمولی علامات کا سامنا کرنا پڑا۔ والدین کا الزام ہے کہ انہوں نے ان مسائل کے بارے میں چیٹ جی پی ٹی سے بارہا سوالات کیے، لیکن انہیں مناسب طبی مدد حاصل کرنے کی طرف مؤثر طور پر متوجہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق خاتون کی موت فروری 2026 میں ہوئی۔ کنگ کاؤنٹی کے میڈیکل ایگزامنر نے موت کی وجہ مرگی کے مریضوں میں اچانک غیر متوقع موت قرار دی، جسے طبی اصطلاح میں
یہ بات اہم ہے کہ مقدمے میں دوا کی خوراک کم کرنے اور چیٹ جی پی ٹی کے مشوروں کو موت سے جوڑا گیا ہے، تاہم اس تعلق اور قانونی ذمہ داری کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
اوپن اے آئی کا مؤقف اور طبی مشوروں سے متعلق خدشات
اوپن اے آئی کے ترجمان نے اس واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیٹ جی پی ٹی طبی دیکھ بھال کا متبادل نہیں ہے۔ کمپنی کے مطابق باؤن وان چیٹ جی پی ٹی کے ایک ایسے ماڈل، GPT-4o، کو استعمال کررہی تھیں جو اب دستیاب نہیں ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ نئے ماڈلز میں حساس حالات کو پہچاننے اور مناسب ردعمل دینے کی صلاحیت بہتر بنانے پر کام کیا گیا ہے۔
اس واقعے نے صحت سے متعلق معاملات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس کی حدود پر بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ چیٹ بوٹس عمومی طبی معلومات سمجھنے اور ڈاکٹر سے پوچھے جانے والے سوالات تیار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن وہ کسی مستند معالج کے معائنے اور انفرادی طبی فیصلے کا متبادل نہیں ہیں۔
ماہرین کی ہدایت، ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند نہ کریں
طبی ماہرین کی عمومی ہدایت ہے کہ مرگی سمیت کسی بھی بیماری کی تجویز کردہ دوا کی خوراک خود سے کم یا زیادہ نہیں کرنی چاہیے۔ دوا اچانک بند کرنے یا خوراک میں غیر نگرانی شدہ تبدیلی سے بیماری کی علامات دوبارہ ظاہر ہونے اور سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
اگر کسی دوا کے مضر اثرات محسوس ہوں تو مریض کو اپنے معالج سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ وہ صورت حال کا جائزہ لے کر خوراک میں تبدیلی یا متبادل علاج کے بارے میں فیصلہ کرسکے۔ مصنوعی ذہانت سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر علاج تبدیل کرنا محفوظ طریقہ نہیں
مزید پڑھیں
کرکٹ کو خیرباد کہہ کر نوجوان کھلاڑی نے سافٹ ویئر کمپنی جوائن کرلی









