اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ انتخابات کو شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے انتخابی اصلاحات کے لیے قائم پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کو شامل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق کمیٹی میں اپوزیشن کے پانچ ارکان شامل کیے جائیں گے، جبکہ اپوزیشن سے نام طلب کرنے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے خط لکھا جائے گا۔ حکومت کا مقصد انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔
آئندہ انتخابات میں شفافیت کے لیے حکومتی اقدام
حکومت نے آئندہ انتخابات کے عمل کو زیادہ شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے تحت انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ انتخابی نظام میں بہتری کے لیے تمام متعلقہ سیاسی جماعتوں کو مشاورت کے عمل میں شامل کیا جائے تاکہ انتخابی عمل پر سیاسی جماعتوں اور عوام کا اعتماد مضبوط ہوسکے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی انتخابی اصلاحات پر ہدایات
وزیراعظم شہباز شریف نے انتخابی اصلاحات کے معاملے پر اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹی میں شامل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ اس اقدام کے تحت اپوزیشن جماعتوں سے کمیٹی کے لیے پانچ ارکان کے نام طلب کیے جائیں گے۔
حکومت کی جانب سے اس پیش رفت کو انتخابی نظام میں بہتری اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات پر بات چیت کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم اصلاحات کی حتمی نوعیت اور مجوزہ تبدیلیوں کی تفصیلات مشاورت کے بعد واضح ہوں گی۔
انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کی شمولیت
انتخابی اصلاحات کے لیے قائم 20 رکنی پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کے پانچ ارکان کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن کو کمیٹی میں شمولیت کی دعوت دینے کے لیے خط لکھیں گے اور ان سے نام فراہم کرنے کی درخواست کی جائے گی۔
اپوزیشن کی شمولیت سے انتخابی نظام سے متعلق مختلف تجاویز اور تحفظات کو پارلیمانی سطح پر زیرِ بحث لانے کا موقع ملے گا۔ اس عمل کے ذریعے حکومت اور اپوزیشن انتخابی قوانین اور طریقہ کار میں ممکنہ تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کرسکیں گے۔
سینیٹ میں انتخابی اصلاحات سے متعلق قرارداد پیش
انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے سلسلے میں بیرسٹر عقیل ملک نے سینیٹ میں قرارداد بھی پیش کی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد انتخابی نظام میں اصلاحات کا معاملہ پارلیمانی فورمز پر مزید زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم مجوزہ اصلاحات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن انتخابی قوانین، نگرانی اور نتائج کے نظام سے متعلق معاملات پر کس حد تک متفق ہوتی ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات آئندہ انتخابات کے لیے اہم
حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کے لیے مذاکرات کی دعوت دینے کا فیصلہ سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ اگر دونوں فریق مشاورت کے ذریعے اصلاحات پر متفق ہوجاتے ہیں تو اس سے مستقبل کے انتخابی عمل کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم اپوزیشن کی جانب سے کمیٹی میں شرکت، پیش کی جانے والی تجاویز اور حکومت کے ساتھ ممکنہ اتفاق رائے سے متعلق حتمی صورتحال ابھی سامنے آنا باقی ہے۔ آئندہ پیش رفت سے واضح ہوگا کہ انتخابی اصلاحات کے لیے سیاسی جماعتیں مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں
مزید پڑھیں
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کے لیے اہم پیش رفت ہے: وزیراعظم











