اسرائیل میں 90 فیصد ووٹ گن لیے گئے، نیتن یاہو کے اتحاد کو اکثریت نہ مل سکی ملتان میں گھر میں آتشزدگی، خاتون اور 2 بیٹیاں جھلس کر جاں بحق
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

اسرائیل میں 90 فیصد ووٹ گن لیے گئے، نیتن یاہو کے اتحاد کو اکثریت نہ مل سکی

Israeli Likud party members stand onstage before a crowd with the Israeli flag and Likud branding during the Israel Election Results 2026.

اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد تقریباً 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے، تاہم وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ ابتدائی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد 48 نشستوں پر آگے ہے۔ اسرائیلی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے 120 میں سے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں، جس کے باعث نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اہم ہوں گے۔

اسرائیلی انتخابات کے نتائج میں کسی کو واضح اکثریت نہ ملی

اسرائیل میں 27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بھی بڑا سیاسی اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ نیتن یاہو کا اتحاد سب سے آگے ہونے کے باوجود 61 نشستوں کے ہدف سے پیچھے ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد کو بھی حکومت بنانے کے لیے مزید سیاسی حمایت درکار ہوگی۔

نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ملنے کا امکان

ابتدائی انتخابی نتائج کے مطابق بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کے اتحاد کو پارلیمان میں تقریباً 53 نشستیں مل سکتی ہیں۔ یہ تعداد حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت سے آٹھ نشستیں کم ہے۔ نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ سب سے بڑی انفرادی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، تاہم اتحادی جماعتوں کی مجموعی نشستیں حکومت سازی کے لیے کافی دکھائی نہیں دے رہیں۔ حتمی نتائج اور دیگر جماعتوں کی پوزیشن واضح ہونے کے بعد سیاسی صورتحال میں تبدیلی ممکن ہے۔

اپوزیشن اتحاد بھی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام

گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو ابتدائی نتائج کے مطابق تقریباً 48 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ یہ تعداد بھی پارلیمانی اکثریت سے خاصی کم ہے، جس کے باعث اپوزیشن کے لیے حکومت بنانے کی راہ آسان نہیں ہوگی۔ اپوزیشن کو حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ تاہم عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد یا ان کی حمایت لینے کے معاملے پر اسرائیلی سیاست میں اختلافات موجود ہیں، جس سے حکومت سازی کے مذاکرات پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔

عرب جماعتوں کی نشستیں حکومت سازی میں اہم ہوسکتی ہیں

ابتدائی نتائج کے مطابق اسرائیل کی دو عرب قیادت والی جماعتوں، جوائنٹ لسٹ اور رام، کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ اگر یہ اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو عرب جماعتیں حکومت سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ تاہم ان جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا اپوزیشن کے لیے سیاسی طور پر حساس معاملہ ہے۔ مختلف رہنماؤں کے مؤقف اور ممکنہ اتحاد کی شرائط اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا کوئی سیاسی گروپ پارلیمان میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرسکتا ہے یا نہیں۔

حتمی نتائج کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہوگا

اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد انتخابی نتائج کی حتمی تصدیق کی جائے گی۔ خصوصی بیلٹ پیپرز، جن میں فوجی اہلکاروں، سفارت کاروں اور دیگر مخصوص ووٹرز کے ووٹ شامل ہیں، نشستوں کی تقسیم پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ حتمی نتائج کے بعد اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے تاکہ حکومت بنانے کے لیے موزوں امیدوار کا تعین کیا جاسکے۔ اگر کوئی بھی اتحاد اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو حکومت سازی کے لیے طویل مذاکرات یا دوبارہ انتخابات کا امکان بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ فی الحال نیتن یاہو کے اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملنے کے باعث اسرائیل میں سیاسی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

مزید پڑھیں

ملتان میں گھر میں آتشزدگی، خاتون اور 2 بیٹیاں جھلس کر جاں بحق

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین