سعودیہ کا سفر کرنے والوں کے لیے ویکسی نیشن کی شرط میں ایک ماہ کی توسیع پی ٹی آئی کی سیاسی مشکلات کے پیچھے سخت گیر عناصر کا کردار قرار الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے 20 دسمبر کی تاریخ مقرر کردی جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ آن لائن فروخت کرکے 35 ارب کا فراڈ کرنے والے ملزم کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

طلبہ تحریک کی کامیابی، سربیا کے سابق صدر الیگزینڈر ووچیچ کو پارلیمانی انتخابات میں شکست

یورپی ملک سربیا میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی سیاسی تحریک نے پارلیمانی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرلی، جبکہ سابق صدر الیگزینڈر ووچیچ نے انتخابی شکست تسلیم کرلی ہے۔ ابتدائی نتائج کے اندازوں کے مطابق طلبہ کی حمایت یافتہ جماعتی فہرست کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت ملنے کا امکان ہے۔ یہ کامیابی ملک میں تقریباً دو سال سے جاری احتجاجی تحریک کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں بدعنوانی کے الزامات اور حکومتی طرزِ حکمرانی کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔

طلبہ کی حمایت یافتہ فہرست کو پارلیمنٹ میں اکثریت ملنے کا امکان

سربیا میں 25 اکتوبر 2026 کو ہونے والے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی اندازوں کے مطابق طلبہ کی حمایت یافتہ انتخابی فہرست کو 250 رکنی پارلیمنٹ میں 135 سے 140 نشستیں مل سکتی ہیں، جبکہ الیگزینڈر ووچیچ کے سیاسی اتحاد کو تقریباً 105 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

ووچیچ نے نتائج کے ابتدائی جائزے کی بنیاد پر شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ واضح ہے کہ ان کا سیاسی اتحاد انتخابات ہار چکا ہے۔ تاہم، اس وقت حتمی سرکاری نتائج کا اعلان ہونا باقی تھا۔

بلغراد سمیت مختلف شہروں میں جشن

انتخابی نتائج کے ابتدائی اندازے سامنے آنے کے بعد سربیا کے دارالحکومت بلغراد سمیت مختلف شہروں میں طلبہ تحریک کے حامی سڑکوں پر نکل آئے۔ لوگوں نے نعرے لگائے، خوشی کا اظہار کیا اور کامیابی کا جشن منایا۔

طلبہ کی حمایت یافتہ انتخابی فہرست کے امیدواروں نے اس کامیابی کو عوام کی تبدیلی کی خواہش اور بہتر مستقبل کی امید قرار دیا۔ تحریک کے حامیوں کے لیے یہ نتیجہ ملک کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

ریلوے اسٹیشن حادثے کے بعد احتجاجی تحریک شروع ہوئی

سربیا میں طلبہ کی احتجاجی تحریک نومبر 2024 میں نووی ساد شہر کے ریلوے اسٹیشن کی چھت کا ایک حصہ گرنے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس حادثے میں 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے، جس کے بعد شہریوں نے واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ احتجاج مبینہ بدعنوانی، حکومتی جواب دہی اور ریاستی اداروں کی کارکردگی جیسے وسیع تر مسائل تک پھیل گیا۔ طلبہ کے احتجاج میں اساتذہ، کسانوں اور معاشرے کے دیگر طبقات نے بھی حصہ لیا۔ حکومت نے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کی ہے۔

ووٹرز کی بڑی تعداد نے انتخابی عمل میں حصہ لیا

انتخابات میں ووٹرز کی نمایاں شرکت بھی توجہ کا مرکز رہی۔ سربیا کے انتخابی حکام کے مطابق ووٹنگ ختم ہونے سے تقریباً دو گھنٹے قبل ٹرن آؤٹ 64.9 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ انتخابی مبصرین نے بعض پولنگ اسٹیشنوں پر بے ضابطگیوں اور ووٹرز پر دباؤ سے متعلق شکایات بھی رپورٹ کیں۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق طلبہ کی حمایت یافتہ فہرست نے اپنے حریف اتحاد پر نمایاں برتری حاصل کی، تاہم نشستوں کی حتمی تعداد اور انتخابی نتائج کی تصدیق سرکاری انتخابی کمیشن کی جانب سے ہونا باقی تھی۔

سربیا کی سیاست میں بڑی تبدیلی کے امکانات

طلبہ تحریک کی کامیابی سربیا کی سیاست میں ایک اہم موڑ سمجھی جارہی ہے۔ الیگزینڈر ووچیچ اور ان کی سربین پروگریسو پارٹی 2012 سے ملکی سیاست میں نمایاں اثر و رسوخ رکھتے آئے ہیں، جبکہ ووچیچ 2014 میں وزیراعظم اور 2017 میں صدر بنے تھے۔

انتخابی نتائج کے حتمی اعلان کے بعد نئی پارلیمانی اکثریت کے لیے حکومت سازی کا مرحلہ اہم ہوگا۔ طلبہ کی حمایت یافتہ تحریک نے قانون کی حکمرانی، بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور ریاستی اداروں میں اصلاحات پر زور دیا ہے۔ تاہم، ان وعدوں پر عمل درآمد اور نئی حکومت کی تشکیل سربیا کے سیاسی مستقبل کا تعین کرے گی۔
مزید پڑھیں
مختلف شہروں میں ایل پی جی 600 سے 650 روپے فی کلو فروخت، قیمتیں کم نہ ہوسکیں

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین