پاکستان کے مختلف شہروں میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں کمی نہ آسکی اور صارفین کو سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں ایل پی جی 600 سے 650 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں قیمتیں اس سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہیں۔ گیس کی سپلائی میں کمی، ایران سے درآمدات میں تعطل اور سردیوں سے پہلے بڑھتی طلب کو قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔
مختلف شہروں میں ایل پی جی کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
ملک کے مختلف حصوں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں فرق دیکھا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں گیس تقریباً 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے، جبکہ اسلام آباد اور بعض دیگر شہروں میں قیمت 600 روپے فی کلو سے تجاوز کرچکی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں فی کلو نرخ 700 سے 750 روپے تک پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
زیادہ قیمتوں کے باعث ان گھرانوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں جو کھانا پکانے اور دیگر ضروریات کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔
سرکاری نرخ اور بازار کی قیمت میں بڑا فرق
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر کی تھی۔ 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت 3,296 روپے 23 پیسے طے کی گئی، لیکن کھلی مارکیٹ میں صارفین کو اس سے کہیں زیادہ رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
سرکاری نرخ اور بازار کی قیمت میں اس نمایاں فرق نے صارفین پر مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں کی نگرانی اور مقررہ نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنانا متعلقہ حکام کے لیے ایک اہم چیلنج بن گیا ہے۔
ایران سے سپلائی متاثر ہونے کے باعث قلت میں اضافہ
رپورٹس کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے ایل پی جی کی درآمدات میں تعطل پیدا ہوا ہے۔ 17 اکتوبر کو گبد رِمدان اور تفتان کے راستوں پر تجارتی نقل و حرکت رکنے کے بعد ایل پی جی کی سپلائی مزید متاثر ہوئی۔
تاجروں کے مطابق ایران سے آنے والی گیس پاکستان کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ درآمدات میں رکاوٹ اور ٹینکروں کی نقل و حرکت متاثر ہونے سے مارکیٹ میں دستیابی کم ہوئی، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ حکام اور متعلقہ فریقوں کے درمیان تجارت بحال کرنے کے لیے مشاورت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
سردیوں سے پہلے طلب بڑھنے سے صارفین کی مشکلات
سردیوں کی آمد کے ساتھ ایل پی جی کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ جن علاقوں میں پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی محدود ہوتی ہے، وہاں گھریلو صارفین کھانا پکانے اور گرمائش کے لیے ایل پی جی سلنڈروں پر انحصار کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی روزانہ طلب سردیوں کے دوران 6 ہزار سے 7 ہزار ٹن تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ معمول کے دنوں میں یہ تقریباً 4 ہزار سے 4 ہزار 500 ٹن ہوتی ہے۔ طلب میں اضافے اور سپلائی کی کمی نے قیمتوں کو مزید بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کی ضرورت
ایل پی جی کی بلند قیمتوں نے گھریلو صارفین کے بجٹ کو متاثر کیا ہے۔ صارفین اور صنعت سے وابستہ افراد کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سپلائی بہتر بنانے، درآمدات بحال کرنے اور مقررہ نرخوں پر عمل درآمد کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اوگرا اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کی نگرانی، ذخیرہ اندوزی اور زائد قیمت وصول کرنے کی شکایات پر کارروائی بھی اہم ہے۔ تاہم مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کا انحصار سپلائی کی بحالی، طلب و رسد کے توازن اور حکومتی اقدامات پر ہوگا۔ فی الحال مختلف شہروں میں ایل پی جی کے بلند نرخ صارفین کے لیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں
سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ نے اعتماد کیا، اس پر پورا اتر کر خوش ہوں: شاداب خان




