لڑکی کو غلط طریقے سے چھونے کے الزام میں روبوٹ پولیس نے تحویل میں لے لیا لاہور میں ٹریلر کی گاڑی کو ٹکر، میاں بیوی اور بیٹے سمیت 3 افراد جاں بحق کراچی: اعجاز جکھرانی کے بھائی کے بنگلے پر چھاپہ، ایک کلو سے زائد آئس اور کوکین برآمد مراد سعید افغانستان میں بیٹھ کر کے پی حکومت کنٹرول کر رہے ہیں: رانا ثنا اللہ
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

پمز اسپتال میں سہولتوں میں اضافے کا منصوبہ، نئے شعبے قائم ہوں گے

PIMS Hospital Announces New Medical Facilities

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں مریضوں کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں۔ اسپتال انتظامیہ نے طبی آلات کو جدید بنانے، ادویات کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے اور نئے تخصصی شعبے قائم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد مریضوں کی دیکھ بھال بہتر بنانا اور اسپتال کے طبی و انتظامی نظام کو مؤثر بنانا ہے۔

پمز اسپتال میں طبی سہولتیں بہتر بنانے کا فیصلہ

پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالق کے مطابق اسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال اور طبی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اصلاحات متعارف کرائی جارہی ہیں۔ ان اقدامات میں انتظامی امور کو بہتر بنانا، ضروری طبی سامان کی دستیابی اور علاج کے نظام کو مزید مؤثر بنانا شامل ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق ادویات اور طبی سامان کی خریداری کے طریقہ کار کو بہتر بنایا گیا ہے تاکہ ان ڈور وارڈز اور آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں مریضوں کو ادویات کی فراہمی بلا تعطل جاری رہ سکے۔

نئے تخصصی شعبے قائم کرنے کا منصوبہ

پمز میں طبی سہولتوں کی توسیع کے تحت تھوراسک سرجری کا مخصوص شعبہ قائم کرنے اور ایک علیحدہ ایمرجنسی میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے قیام کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

اس کے علاوہ لائف اسٹائل میڈیسن، اینڈوکرائنولوجی، اسپائن سرجری، بچوں کی امراضِ قلب اور بچوں کی آرتھوپیڈک سرجری جیسی خصوصی خدمات متعارف کرانے کے لیے تجاویز بھی تیار کی جارہی ہیں۔ ان شعبوں کے قیام سے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے مخصوص طبی سہولتیں فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

طبی آلات کی جدید کاری اور ادویات کی فراہمی

اسپتال میں جنرل سرجری، انٹرنل میڈیسن، گیسٹرواینٹرولوجی، پلمونولوجی، رینل ٹرانسپلانٹ سروسز اور ڈائلیسس یونٹ میں پرانے الیکٹرو میڈیکل آلات کو تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے۔

انتظامیہ کے مطابق آپریشن تھیٹرز میں ضروری جراحی آلات، ٹانکے لگانے کے سامان اور دیگر طبی اشیا کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ان سہولتوں کی بہتری سے مریضوں کے علاج اور مختلف طبی شعبوں کی کارکردگی میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی توسیع

پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی بحالی اور توسیع بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ اس اقدام کے تحت بستروں کی گنجائش بڑھانے اور آپریشن کے لیے مخصوص سہولتیں فراہم کرنے پر کام کیا جارہا ہے۔

ماں اور بچے کی صحت سے متعلق خدمات کو بہتر بنانے کے لیے اضافی گنجائش اہم ہوسکتی ہے، خصوصاً ایسے اسپتال میں جہاں مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ منصوبے کی تکمیل اور سہولتوں کی دستیابی سے متعلق حتمی نتائج آئندہ پیش رفت کے بعد واضح ہوں گے۔

طبی تعلیم اور عملے کی تربیت میں توسیع

پمز میں علاج کی سہولتوں کے ساتھ طبی تعلیم اور تخصصی تربیت کو بھی وسعت دی جارہی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی سے الحاق کے تحت بریسٹ سرجری، کولوریکٹل سرجری، ہیپاٹوبیلیئری سرجری اور منیمل ایکسیس سرجری میں ماسٹرز پروگرام متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ 30 نرسنگ پروفیشنلز نے نرسنگ قیادت، مریضوں کی حفاظت اور طبی انتظام کے شعبوں میں بین الاقوامی سرٹیفکیشن مکمل کی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز، ہاؤس آفیسرز اور نرسنگ عملے کے انتخاب میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
مزید پڑھیں

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

مقبول پوسٹس

اشتہار

بلیک فرائیڈے

سماجی اشتراک

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

:متعلقہ مضامین