لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں ایک افسوسناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں میاں بیوی اور ان کے بیٹے سمیت ایک ہی خاندان کے تین افراد جاں بحق ہوگئے۔ حادثہ علامہ اقبال روڈ پر اس وقت پیش آیا جب ٹریفک سگنل پر کھڑی ایک کار پر 22 ویلر ٹریلر چڑھ گیا۔ بھاری گاڑی کے نیچے دبنے سے کار بری طرح تباہ ہوگئی اور اس میں سوار افراد پھنس گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے طویل کارروائی کے بعد تینوں افراد کی لاشیں نکال لیں۔
گڑھی شاہو میں خوفناک حادثہ کیسے پیش آیا؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں علامہ اقبال روڈ پر پیش آیا۔ ایک کار ٹریفک سگنل پر رکی ہوئی تھی کہ 22 ویلر ٹریلر اس پر چڑھ گیا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ کار ٹریلر کے نیچے دب کر مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
حادثے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہریوں نے فوری طور پر ریسکیو اور پولیس کو اطلاع دی۔ امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور گاڑی میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے کارروائی شروع کردی۔
میاں بیوی اور بیٹے سمیت تین افراد جاں بحق
حادثے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت محمد عاصم، ان کی اہلیہ ہما عاصم اور بیٹے طلحہ عاصم کے نام سے ہوئی ہے۔ تینوں کا تعلق لاہور کے علاقے اچھرہ، شاہ جمال سے بتایا گیا ہے۔
اس افسوسناک واقعے نے متاثرہ خاندان اور اہلِ علاقہ کو غم زدہ کردیا۔ ایک ہی خاندان کے تین افراد کی اچانک موت نے ٹریفک حادثات کے سنگین نتائج اور سڑکوں پر احتیاط کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے۔
ریسکیو اہلکاروں کی طویل کارروائی، کار کاٹ کر لاشیں نکالیں
حادثے کے بعد کار ٹریلر کے نیچے بری طرح پھنس گئی تھی، جس کے باعث امدادی کارروائی میں مشکلات پیش آئیں۔ ریسکیو 1122 اور پولیس اہلکاروں نے کرین اور دوسرے ٹریلر کی مدد سے کار کو بھاری گاڑی کے نیچے سے نکالنے کی کوشش کی۔
گاڑی میں پھنسے افراد تک پہنچنے کے لیے کار کے مختلف حصے کاٹنا پڑے۔ طویل کوششوں کے بعد تینوں افراد کی لاشیں نکال کر مردہ خانے منتقل کردی گئیں۔ حادثے کے باعث علامہ اقبال روڈ پر ٹریفک بھی متاثر ہوئی، تاہم تباہ شدہ کار ہٹانے کے بعد ٹریفک بحال کردی گئی۔
ٹریلر ڈرائیور موقع سے فرار، پولیس کی تحقیقات شروع
پولیس کے مطابق حادثے کے بعد ٹریلر کا ڈرائیور اور عملے کے دیگر افراد موقع سے فرار ہوگئے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ حادثے کی وجوہات اور ذمہ دار افراد کا تعین کیا جاسکے۔
ابتدائی اطلاعات میں تیز رفتاری کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے، تاہم حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں ہوگا۔ آئی جی پنجاب نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی ٹی او لاہور سے رپورٹ طلب کی اور ذمہ داروں کی گرفتاری کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔
بھاری گاڑیوں کی نگرانی اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد ضروری
لاہور میں پیش آنے والا یہ حادثہ بھاری گاڑیوں کی نقل و حرکت اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔ ٹریلرز اور دیگر بڑی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے لیے رفتار کی حدود، محفوظ فاصلہ اور ٹریفک سگنلز کی پابندی انتہائی اہم ہے۔
متعلقہ حکام کے لیے ضروری ہے کہ بھاری گاڑیوں کی نگرانی بہتر بنائی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ایسے اقدامات مستقبل میں حادثات کے خطرات کم کرنے اور شہریوں کی جانوں کے تحفظ میں مدد دے سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں
لڑکی کو غلط طریقے سے چھونے کے الزام میں روبوٹ پولیس نے تحویل میں لے لیا










