جرمنی کے شہر کولون میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا ہے، جہاں پولیس نے ایک ہیومنائیڈ روبوٹ کو 16 سالہ لڑکی کو نامناسب طریقے سے چھونے اور قابلِ اعتراض حرکات کرنے کے الزام کے بعد تحویل میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے باہر پیش آیا، جہاں روبوٹ نے لڑکی کے قریب جاکر نامناسب حرکتیں کیں۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی نشر کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس اب اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ روبوٹ کی حرکات کو کسی شخص نے کنٹرول کیا تھا یا انہیں پہلے سے پروگرام کیا گیا تھا۔
جرمنی میں روبوٹ کا لڑکی کے ساتھ نامناسب رویہ
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 10 اور 11 اکتوبر 2026 کی درمیانی شب کولون میں ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے باہر پیش آیا۔ 16 سالہ لڑکی اپنی دو دوستوں کے ساتھ موجود تھی کہ سرخ اور سنہری رنگ کا ایک روبوٹ اس کے قریب آیا۔ الزام ہے کہ روبوٹ نے لڑکی کو پیچھے سے نامناسب طریقے سے چھوا اور اس کے بعد قابلِ اعتراض حرکات کیں۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور تحقیقات شروع کردیں۔ حکام کے مطابق اس نوعیت کا معاملہ ان کے لیے غیر معمولی ہے، کیونکہ اس میں مبینہ طور پر ایک مشین کے ذریعے نامناسب حرکت کی گئی۔
روبوٹ کا مالک اور ساتھی بھی پولیس کی تفتیش میں شامل
پولیس کے مطابق روبوٹ کے 16 سالہ مالک اور اس کے 19 سالہ ساتھی پر شبہ ہے کہ انہوں نے واقعے کی ویڈیو بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر براہِ راست نشر کیا۔ حکام کو دونوں نوجوان قریب ہی ملے، جبکہ روبوٹ ایک گاڑی کی ڈگی سے برآمد ہوا۔
پولیس نے روبوٹ اور دونوں مشتبہ افراد کے موبائل فون تحویل میں لے لیے ہیں۔ تفتیش کار ویڈیوز اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ واقعے کے دوران کیا ہوا اور اس میں کس کا کیا کردار تھا۔ تاحال دونوں نوجوانوں پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کیے جانے کی اطلاع نہیں ہے۔
کیا روبوٹ کو ریموٹ کنٹرول سے چلایا جا رہا تھا؟
اس واقعے کی تحقیقات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ روبوٹ کی حرکات کس طرح انجام دی گئیں۔ پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ آیا اسے کسی شخص نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلایا، اس کی حرکات پہلے سے پروگرام کی گئی تھیں یا وہ کسی خودکار نظام کے تحت حرکت کررہا تھا۔
حکام ویڈیو ریکارڈنگ اور دیگر دستیاب شواہد کی مدد سے واقعے کی ترتیب کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، روبوٹ کے عمل اور اس میں انسانی مداخلت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو نشر کرنے کا معاملہ بھی زیرِ تفتیش
پولیس کے مطابق روبوٹ کے ذریعے پیش آنے والے واقعے کو ریکارڈ کرنے اور سوشل میڈیا پر نشر کرنے کا پہلو بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ویڈیو کس مقصد کے لیے بنائی گئی اور آیا اس کی اشاعت سے متعلق کسی قانونی خلاف ورزی کا ارتکاب ہوا۔
پولیس نے لوگوں کو متاثرہ لڑکی کے بارے میں غیر مناسب تبصرے کرنے یا واقعے کا مذاق اڑانے سے بھی خبردار کیا ہے۔ ایسے واقعات کی ویڈیوز کو بغیر سوچے سمجھے آگے پھیلانا متاثرہ شخص کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔
روبوٹکس ٹیکنالوجی اور انسانی ذمہ داری پر نئی بحث
جرمنی میں پیش آنے والے اس واقعے نے عوامی مقامات پر روبوٹس کے استعمال اور ان کی نگرانی سے متعلق سوالات کو نمایاں کردیا ہے۔ جدید روبوٹس کو بعض کام خودکار انداز میں انجام دینے کے لیے تیار کیا جاتا ہے، جبکہ کچھ ماڈلز کو ریموٹ کنٹرول یا سکھائی گئی حرکات کے ذریعے بھی چلایا جاسکتا ہے۔
اس واقعے میں اصل ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے نتائج پر منحصر ہوگا۔ اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی شخص نے جان بوجھ کر روبوٹ کو نامناسب حرکت کے لیے استعمال کیا، تو اس شخص کے کردار کا قانونی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ فی الحال پولیس کی توجہ شواہد جمع کرنے، روبوٹ کے نظام کو جانچنے اور واقعے میں ملوث افراد کے کردار کا تعین کرنے پر ہے۔
مزید پڑھیں
مراد سعید افغانستان میں بیٹھ کر کے پی حکومت کنٹرول کر رہے ہیں: رانا ثنا اللہ











