ملتان میں رحمان بابا ایکسپریس کے خوفناک حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد چھ ہوگئی ہے، جبکہ لاپتہ ڈیڑھ سالہ بچی کی تلاش جاری ہے۔ کراچی سے پشاور جانے والی ٹرین 13 اکتوبر 2026 کی صبح شیر شاہ پل کے قریب پٹری سے اتر گئی تھی۔ حادثے میں 30 سے زائد مسافر زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے نشتر اسپتال ملتان منتقل کیا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق امدادی آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے، تاہم بچی کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ملتان میں رحمان بابا ایکسپریس کو حادثہ کیسے پیش آیا؟
رحمان بابا ایکسپریس کراچی سے پشاور کی جانب سفر کررہی تھی کہ ملتان میں شیر شاہ پل کے قریب اس کی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ صبح تقریباً پانچ بج کر پندرہ منٹ پر پیش آیا۔ واقعے کے بعد مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ ٹرین کی بوگیوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث مسافروں کو نکالنے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کا کام شروع کیا گیا۔
حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہوگئی
ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ بوگی سے مزید ایک لاش ملنے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد چھ ہوگئی۔ حادثے میں 30 سے زائد مسافر
زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے نشتر اسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کو علاج فراہم کرنے کے لیے اسپتال میں ایمرجنسی انتظامات بھی کیے گئے۔ اس افسوس ناک حادثے نے متاثرہ خاندانوں کو شدید صدمے سے دوچار کردیا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے زخمیوں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔
ڈیڑھ سالہ لاپتہ بچی کی تلاش جاری
حادثے کے بعد ایک ڈیڑھ سالہ بچی لاپتہ ہونے کی اطلاع سامنے آئی، جس کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ریسکیو آپریشن کے دوران متاثرہ بوگیوں کی تلاشی لی گئی اور مسافروں کو نکالنے کا عمل مکمل کیا گیا۔ تاہم بچی کے بارے میں حتمی معلومات سامنے نہ آنے کے باعث اہل خانہ اور امدادی ٹیمیں اس کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ایسے حالات میں ہر ممکن مقام کی جانچ اور متعلقہ افراد سے معلومات حاصل کرنا اہم ہوتا ہے تاکہ لاپتہ بچی کے بارے میں سراغ مل سکے۔
ٹرین حادثے کی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی
ریلوے حکام کے مطابق حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ بعض اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حادثے سے پہلے روہڑی کے قریب ایک بوگی کے نٹ بولٹ چیک کیے گئے تھے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس کا حادثے سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی حادثے کی وجوہات کے بارے میں حتمی بات کی جاسکے گی۔
وزیراعظم کا نوٹس، زخمیوں کو طبی امداد کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے رحمان بابا ایکسپریس حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو بہترین
طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کی ہدایت کی۔ حادثے کے بعد ریلوے حکام نے متاثرہ مسافروں کو اسٹیشن تک پہنچانے کے لیے متبادل کوچ فراہم کرنے کے اقدامات بھی کیے۔ اب تمام تر توجہ لاپتہ بچی کی تلاش، زخمیوں کے علاج اور حادثے کی اصل وجوہات معلوم کرنے پر مرکوز ہے
مزید پڑھیں
سری لنکا کا پاکستان سے ٹیسٹ مقابلوں کے لیے 15 رکنی اسکواڈ سامنے آگیا







