آسری لنکا کا پاکستان سے ٹیسٹ مقابلوں کے لیے 15 رکنی اسکواڈ سامنے آگیا رحمان بابا ٹرین حادثہ: ہلاکتوں کی تعداد 6 ہوگئی، لاپتہ بچی کی تلاش جاری سہیل آفریدی کی خیبرپختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ پر واپسی کے امکانات ختم افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے روکنے کی ذمہ داری افغان طالبان پر عائد ہوتی ہے: وزارت اطلاعات
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے روکنے کی ذمہ داری افغان طالبان پر عائد ہوتی ہے: وزارت اطلاعات

Image Text: Pakistan Urges Afghan Taliban to Stop Cross-Border Attacks

اسلام آباد: وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو فوری طور پر روکے۔ وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور ان کے خلاف مؤثر اقدامات کرنا افغان طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے۔

12 اکتوبر 2026 کو جاری بیان میں وزارت اطلاعات نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کا جواب دیں اور دہشت گردی کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائیاں کریں۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اپنے شہریوں کی سلامتی اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔

افغان طالبان دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کریں: وزارت اطلاعات

وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق افغان طالبان حکومت کو محض بیانات دینے کے بجائے دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی کارروائی کرنی چاہیے۔

وزارت نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں موجود بعض مسلح گروہ پاکستانی سرزمین پر حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے افغان علاقے استعمال کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان کے ترجمان پاکستان کے سکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے دوسرے معاملات کی طرف توجہ منتقل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مستقل اور قابلِ تصدیق اقدامات ضروری ہیں تاکہ سرحد پار دہشت گردی کے خطرات کم کیے جاسکیں۔

افغانستان میں ٹی ٹی پی کے 6 ہزار جنگجوؤں کی موجودگی کا حوالہ

وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹ کا حوالہ دیا۔

وزارت کے مطابق اس رپورٹ میں افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے تقریباً 6 ہزار جنگجوؤں کی موجودگی کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔

پاکستانی وزارت اطلاعات نے کہا کہ رپورٹ میں افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کو ملنے والی حمایت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

حکومت پاکستان کے مطابق یہ معلومات افغانستان میں موجود مسلح گروہوں سے متعلق اس کے خدشات کی تائید کرتی ہیں۔

دوسری جانب افغان طالبان حکومت ماضی میں پاکستان کے ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے دیتی ہے۔

پاکستان نے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے کا مطالبہ کردیا

پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہوں، تربیتی مراکز اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی جائیں۔

وزارت اطلاعات کے مطابق صرف دہشت گردی کی مذمت کرنا کافی نہیں بلکہ ایسے اقدامات ضروری ہیں جن کے نتائج کی تصدیق بھی کی جاسکے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے امن و استحکام کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان حکومت کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف مسلح کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار حملوں اور سکیورٹی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

پاکستان طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود ایسے مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کرے جو پاکستانی علاقوں میں حملوں میں ملوث ہیں۔

دوسری جانب افغان طالبان حکومت پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتی ہے۔

حالیہ سرحدی جھڑپوں اور فضائی کارروائیوں کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہوا ہے۔

تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی تعاون، سرحدی انتظامات اور سفارتی رابطوں کی بحالی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ہوسکتی ہے۔

پاکستان مذاکرات کے لیے تیار، شہریوں کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں ہوگا

وزارت اطلاعات و نشریات نے واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور تعمیری تعلقات برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

تاہم وزارت کے مطابق بامعنی مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ افغان طالبان حکومت انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرے۔

پاکستان نے کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے شہریوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔

وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خطرات سے انکار کرنے کے بجائے ان کے خاتمے کے لیے قابلِ اعتماد اقدامات کرے۔

پاکستانی حکومت کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں کو روکنے کی بنیادی ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان مؤثر مذاکرات اور سکیورٹی تعاون کو خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم سمجھا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں
سہیل آفریدی کی خیبرپختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ پر واپسی کے امکانات ختم

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین