پاکستان کی قومی ٹی20 ٹیم کے نئے کپتان صاحبزادہ فرحان نے کہا ہے کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کسی بھی وقت قومی ٹی20 ٹیم میں واپسی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے دونوں سینئر کھلاڑیوں کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں موجودہ اسکواڈ پر بھی مکمل اعتماد ہے۔ صاحبزادہ فرحان نے یہ بات سری لنکا کے خلاف ٹی20 سیریز سے قبل راولپنڈی میں پری سیریز پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
بابر اعظم اور محمد رضوان کی واپسی پر اہم بیان
صاحبزادہ فرحان نے بابر اعظم اور محمد رضوان کی ممکنہ واپسی سے متعلق سوال پر کہا کہ دونوں تجربہ کار کھلاڑی کسی بھی وقت ٹی20 کرکٹ میں کم بیک کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کی صلاحیتوں اور تجربے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم ان کے بیان کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں کی فوری واپسی کا باضابطہ فیصلہ ہوچکا ہے۔
صاحبزادہ فرحان کو قومی ٹی20 ٹیم کی قیادت سونپ دی گئی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے صاحبزادہ فرحان کو سری لنکا کے خلاف تین ٹی20 میچوں کی سیریز کیلئے قومی ٹیم کا کپتان مقرر کیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں جاپان میں منعقدہ ایشین گیمز میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی تھی، جہاں پاکستان نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ قومی ٹیم کی کپتانی ملنے پر فرحان نے اسے اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔
بابر اعظم ون ڈے اسکواڈ میں شامل، ٹی20 ٹیم سے باہر
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اعلان کردہ اسکواڈ کے مطابق بابر اعظم کو انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف ون ڈے ٹرائی سیریز کیلئے ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، تاہم وہ سری لنکا کے خلاف موجودہ ٹی20 اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں۔ محمد رضوان بھی اعلان کردہ ٹی20 اسکواڈ میں شامل نہیں۔ اس لیے دونوں کی ٹی20 ٹیم میں واپسی کا انحصار مستقبل کے انتخاب اور کارکردگی پر ہوگا۔
کپتان کا موجودہ اسکواڈ پر مکمل اعتماد
صاحبزادہ فرحان نے کہا کہ انہیں موجودہ 15 رکنی اسکواڈ پر مکمل اعتماد ہے اور وہ ٹیم کو مثبت انداز میں آگے لے جانے کی کوشش کریں گے۔ ان کے مطابق کپتان پر اضافی دباؤ ضرور ہوتا ہے، لیکن کھلاڑیوں کو مثبت پیغام دینے کیلئے اپنی کارکردگی سے مثال قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان کیلئے بہتر نتائج حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
سری لنکا کے خلاف ٹی20 سیریز کی اہمیت
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ٹی20 میچوں کی سیریز 9، 11 اور 13 اکتوبر 2026 کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلی جائے گی۔ یہ سیریز صاحبزادہ فرحان کیلئے بطور قومی ٹی20 کپتان ایک اہم موقع ہے۔ ٹیم کی توجہ موجودہ کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور آئندہ بین الاقوامی مقابلوں کیلئے مضبوط کمبی نیشن تیار کرنے پر ہوگی۔
مزید پڑھیں
اے آئی ایجنٹس کے درمیان صنفی امتیاز کا انکشاف، نئی تحقیق سامنے آگئی





