سندھ میں رواں سال ملیریا کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ 17 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 29 ستمبر 2026 تک صوبے بھر میں 117,016 افراد میں ملیریا کی تصدیق ہوئی، جبکہ اس عرصے کے دوران 19 لاکھ سے زائد افراد کی اسکریننگ کی گئی۔
سندھ میں ملیریا کے کتنے کیسز رپورٹ ہوئے؟
محکمہ صحت کے مطابق رواں سال 29 ستمبر تک سندھ میں مجموعی طور پر 117,016 ملیریا کیسز سامنے آئے۔ اسی مدت میں 1,915,058 افراد کی ملیریا کے لیے اسکریننگ کی گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زیرِ جائزہ مدت میں ملیریا سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔صوبے میں ملیریا کی روک تھام، اسکریننگ اور نگرانی کی سرگرمیاں مختلف اضلاع میں جاری رکھنے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔
حیدرآباد ڈویژن میں سب سے زیادہ کیسز
اعداد و شمار کے مطابق حیدرآباد ڈویژن میں ملیریا کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہاں 46,183 افراد میں بیماری کی تصدیق ہوئی جبکہ 626,282 افراد کی اسکریننگ کی گئی۔حیدرآباد ڈویژن کے بعد لاڑکانہ ڈویژن میں 33,785 کیسز رپورٹ ہوئے، جس سے دونوں ڈویژنز صوبے میں رپورٹ ہونے والے مجموعی کیسز کا بڑا حصہ بنتے ہیں۔
دیگر ڈویژنز میں ملیریا کی صورتحال
سندھ کے دیگر ڈویژنز میں بھی ہزاروں ملیریا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہید بینظیر آباد ڈویژن میں 13,005، سکھر میں 12,058 اور میرپورخاص میں 10,898 کیسز سامنے آئے۔کراچی ڈویژن میں اس عرصے کے دوران 1,087 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 55,654 افراد کی اسکریننگ کی گئی۔
سیریبرل ملیریا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا
محکمہ صحت سندھ کے مطابق رواں سال صوبے میں سیریبرل ملیریا کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ سیریبرل ملیریا ملیریا کی ایک شدید قسم ہے جو دماغ کو متاثر کرسکتی ہے اور فوری طبی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔صوبائی محکمہ صحت کے مطابق ملیریا سے بچاؤ اور بیماری کی نگرانی کے لیے مختلف ڈویژنز میں اسکریننگ اور سرویلنس کا عمل جاری ہے۔
ملیریا سے بچاؤ کیلئے احتیاط کیوں ضروری ہے؟
ملیریا مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی بیماری ہے اور اس کی عام علامات میں بخار، کپکپی، پسینہ، سر درد، جسم میں درد اور شدید تھکن شامل ہوسکتی ہیں۔ سندھ حکومت کے مطابق بیماری کی تصدیق کے لیے خون کا ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق مچھروں کی افزائش کے مقامات کو ختم کرنا، گھروں اور اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا اور علامات ظاہر ہونے پر بروقت طبی معائنہ کروانا بیماری سے بچاؤ اور بروقت علاج میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیں
بے قابو اے آئی ایجنٹس کی روک تھام کیلئے نیا ٹول متعارف










