رائل ایئر فورس فئیر فورڈ میں دہشتگردی کی مبینہ منصوبہ بندی، ایک شخص گرفتار اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا وزیراعظم سے سرکاری مقام پر ملاقات سے انکار آئی ایم ایف مذاکرات: مہنگائی پر قابو پانے کیلئے شرح سود بلند رکھنے کی تجویز پیوٹن: ایرانی قوم کی ہمت اور ثابت قدمی نے دنیا کو حیران کردیا
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

پاکستان اکتوبر میں اپنے پہلے خلا باز کے نام کا اعلان کرے گا

Pakistan First Astronaut

پاکستان اپنے پہلے خلا باز کے انتخاب کے قریب پہنچ گیا ہے اور حتمی نام کا اعلان اکتوبر 2026 کے وسط سے آخر تک متوقع ہے۔ دو پاکستانی پائلٹس، ذیشان علی اور خرم داؤد، چین کے بیجنگ میں قائم چائنا آسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں کئی ماہ سے خصوصی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ دونوں میں سے ایک کو پاکستان کے پہلے خلا باز کے طور پر منتخب کیا جائے گا۔

پاکستان کے پہلے خلا باز کیلئے دو پائلٹس زیرِ تربیت

سپارکو کے مطابق ذیشان علی اور خرم داؤد کو سخت انتخابی عمل کے بعد تربیت کے لیے منتخب کیا گیا۔ دونوں چینی زبان کے ساتھ خلائی جہاز کے نظام، بے وزنی کی حالت اور خلا میں درکار مختلف عملی مراحل کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

دونوں امیدوار فوجی پائلٹس ہیں اور انہیں خلائی سفر کے دوران درکار جسمانی دباؤ برداشت کرنے کی مشقیں بھی کرائی جا رہی ہیں۔

خلا باز کا حتمی انتخاب اکتوبر میں ہوگا

سپارکو کے انسانی خلائی پرواز کے تعاون کے نگران عامر گیلانی کے مطابق دونوں امیدواروں میں سے حتمی خلا باز کا انتخاب اکتوبر کے وسط سے آخر تک متوقع ہے۔ منتخب امیدوار تربیت مکمل کرنے کے بعد چین سے ہی خلائی مشن کے لیے روانہ ہوگا۔

یوں پاکستان پہلی مرتبہ اپنے کسی شہری کو انسان بردار خلائی مشن پر بھیجنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

پاکستانی خلا باز چین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن جائے گا

منتخب پاکستانی خلا باز چین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر مختصر مدت کے مشن میں حصہ لے گا۔ رپورٹ کے مطابق مشن کے دوران پاکستانی خلا باز تقریباً ایک ہفتہ خلا میں گزارے گا۔

یہ مشن پاکستان کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے پہلی مرتبہ کسی پاکستانی شہری کو خلا میں جانے کا موقع ملے گا۔

خلا میں سائنسی تجربات کیے جائیں گے

پاکستانی خلا باز کا بنیادی کردار Payload Specialist کا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خلائی جہاز چلانے کے بجائے پاکستان سے متعلق سائنسی تجربات انجام دے گا۔

سپارکو کو پاکستانی جامعات سے 300 سے زائد سائنسی تجاویز موصول ہوئی تھیں، جن میں سے چار بایوٹیکنالوجی تجربات کو اس مشن کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان تجربات کا تعلق غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے ہے۔

پاکستان اور چین کے خلائی تعاون میں اہم پیش رفت

پاکستان کا پہلا انسان بردار خلائی مشن چین کے ساتھ وسیع تر خلائی تعاون کا حصہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس مشن کا تصور 2019 میں سامنے آیا تھا جبکہ پاکستانی امیدواروں کی تربیت چین میں جاری ہے۔

پاکستان اور چین کے خلائی تعاون میں سیٹلائٹس کے علاوہ مستقبل میں قمری تحقیق بھی شامل ہے۔ پاکستانی ساختہ قمری روور کو چین کے Chang’e-8 مشن کے ذریعے تقریباً 2028 میں چاند پر بھیجے جانے کی منصوبہ بندی ہے۔
مزید پڑھیں
سندھ میں رواں سال ملیریا کے کیسز کی تعداد 1 لاکھ 17 ہزار سے تجاوز کرگئی

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

مقبول پوسٹس

اشتہار

بلیک فرائیڈے

سماجی اشتراک

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

:متعلقہ مضامین