ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق صارفین کو فروخت کیے جانے والے پیٹرول کی قیمت اس کی اصل لاگت سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیٹرول پر مختلف ٹیکسز، لیویز اور دیگر چارجز شامل ہونے کے باعث قیمت میں بڑا اضافہ ہوجاتا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں بھاری اضافہ
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی موجودہ قیمت میں اصل لاگت کے مقابلے میں تقریباً 133 روپے فی لیٹر تک اضافہ شامل ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں پیٹرولیم لیوی، جنرل سیلز ٹیکس اور دیگر حکومتی محصولات شامل ہیں۔
ڈیزل کی قیمت بھی اصل لاگت سے زیادہ
رپورٹ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی اصل لاگت کے مقابلے میں تقریباً 122 روپے فی لیٹر تک کا فرق موجود ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت کے شعبوں پر پڑتا ہے۔
عوام پر اضافی مالی بوجھ
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافی ٹیکسز کے باعث عام صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی، ٹرانسپورٹ کرایوں اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔
حکومت کی آمدنی کا اہم ذریعہ
پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیویز اور ٹیکسز حکومت کے لیے آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ تاہم عوامی حلقوں کی جانب سے بارہا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ ایندھن پر ٹیکسز میں کمی کرکے صارفین کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
عالمی قیمتوں اور مقامی پالیسیوں کا اثر
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، درآمدی اخراجات اور حکومتی ٹیکس پالیسیوں سے متاثر ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیں
کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر اور ان کے بھتیجے پر تشدد، مرکزی ملزم نے ضمانت کرالی











