پمز اسپتال سانحہ، جاں بحق 14 بچوں کی میتیں لواحقین کے سپرد کردی گئیں بیرسٹر افتخار گیلانی وزیراعظم آزاد کشمیر کے امیدوار فائنل، ن لیگ کا فیصلہ امریکا کینیڈا تجارتی جنگ شدت اختیار کرگئی، کینیڈا نے امریکی اشیا پر بھاری ٹیرف لگا دیے لارڈز ٹیسٹ کیلئے پاکستان کی ٹیم میں بڑی تبدیلی، سعود شکیل باہر، رضوان اور سلمان برقرار
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

پمز اسپتال سانحہ، جاں بحق 14 بچوں کی میتیں لواحقین کے سپرد کردی گئیں

Bodies of 14 newborn babies handed over to families after PIMS Hospital tragedy

اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے دلخراش آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کی میتیں لواحقین کے سپرد کردی گئی ہیں۔ اس افسوسناک سانحے کے بعد متاثرہ خاندانوں میں شدید غم اور سوگ کی کیفیت ہے۔

نومولود بچوں کی میتیں حوالے

پمز اسپتال انتظامیہ کے مطابق آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے تمام 14 بچوں کی میتیں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان کے لواحقین کے حوالے کردی گئیں۔ اس موقع پر اسپتال میں انتہائی افسوسناک مناظر دیکھنے میں آئے۔

نرسری میں خوفناک آگ لگی

پمز اسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے چند ہی لمحوں میں صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ تیزی سے پھیلی اور نرسری میں موجود نومولود بچے شدید متاثر ہوئے۔

صرف ایک نومولود محفوظ نکالا گیا

پمز انتظامیہ کے مطابق واقعے کے وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے، جن میں سے ایک نومولود کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا، جبکہ 14 بچے جاں بحق ہوگئے۔ ایک بچے کے بارے میں مختلف رپورٹس میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

امدادی کارروائیاں جاری رہیں

آگ لگنے کے بعد اسپتال عملے، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کی۔ انتظامیہ کے مطابق عملے نے بچوں اور دیگر مریضوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کی، جبکہ فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پایا۔

واقعے کی تحقیقات جاری

سانحے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔ کمیٹی آگ لگنے کی وجہ، ہنگامی صورتحال میں اسپتال کے اقدامات، فائر سیفٹی انتظامات اور کسی ممکنہ غفلت کا جائزہ لے رہی ہے۔

متاثرہ خاندانوں میں غم کی لہر

نومولود بچوں کی ہلاکت نے ان کے والدین اور خاندانوں کو شدید صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ جاں بحق بچوں میں جڑواں بچے بھی شامل تھے، جس کے باعث بعض خاندانوں کا نقصان مزید ناقابلِ بیان دکھ میں بدل گیا۔

ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ

سانحے کے بعد متاثرہ خاندانوں اور مختلف حلقوں کی جانب سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ تحقیقاتی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی آتشزدگی کی اصل وجوہات اور ممکنہ غفلت کے بارے میں حتمی صورتحال واضح ہوگی۔مزید پڑھیں
لارڈز ٹیسٹ کیلئے پاکستان کی ٹیم میں بڑی تبدیلی، سعود شکیل باہر، رضوان اور سلمان برقرار

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین