نیشنل پارٹی کے سربراہ عبدالمالک بلوچ نے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کو کسی صورت چھیڑا نہیں جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں نئے صوبے بنانے کے بجائے موجودہ آئینی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ پر توجہ دی جانی چاہیے۔عبدالمالک بلوچ کے اس بیان نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری سیاسی بحث کو ایک نئی سمت دے دی ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتیں اس معاملے پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہی ہیں۔
عبدالمالک بلوچ کا مؤقف
عبدالمالک بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد ہے، اس لیے اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی مناسب نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے بجائے آئین میں دیے گئے صوبائی اختیارات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اٹھارہویں ترمیم کی اہمیت
اٹھارہویں آئینی ترمیم کو پاکستان کی آئینی تاریخ کی اہم اصلاحات میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے متعدد اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اس ترمیم کا مقصد صوبائی خودمختاری کو مضبوط بنانا اور انتظامی معاملات کو مزید مؤثر بنانا تھا۔
این ایف سی ایوارڈ پر بھی زور
عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ بھی صوبوں کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ کے موجودہ نظام کو برقرار رکھا جائے اور اس میں کسی قسم کی غیر ضروری تبدیلی سے گریز کیا جائے۔
نئے صوبوں پر سیاسی بحث
ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک عرصے سے سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔کچھ سیاسی جماعتیں انتظامی سہولت اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے نئے صوبوں کی حمایت کرتی ہیں، جبکہ بعض جماعتیں موجودہ آئینی نظام کو برقرار رکھنے کو ترجیح دیتی ہیں۔
آئینی اتفاق رائے کی ضرورت
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آئین سے متعلق کسی بھی اہم معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع مشاورت اور قومی اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات پر آئینی تقاضوں اور جمہوری روایات کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔
نتیجہ
عبدالمالک بلوچ نے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ اور موجودہ وفاقی نظام کو مضبوط بنانا ہی ملک کے مفاد میں ہے۔
مزید پڑھیں
پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں جاری، حکومت کا باضابطہ اعلان








