رائٹرز: پاکستانی حکام نے ایران کو واضح کر دیا، سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا فیفا ورلڈ کپ: ارجنٹینا کو اب تک 88 فاؤلز پر 9 یلو کارڈز، ڈسپلن کے اعدادوشمار سامنے آ گئے
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

پاکستان میں ریبیز کی نگرانی کا مؤثر نظام موجود نہیں، ہر سال 5 ہزار افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں

Healthcare professionals highlighting the lack of an effective rabies surveillance system in Pakistan and the importance of prevention.

پاکستان میں ریبیز (Rabies) اب بھی ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے، مگر ماہرین کے مطابق ملک میں اس بیماری کی نگرانی اور رپورٹنگ کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ اسی وجہ سے ہر سال ہزاروں افراد اس مہلک بیماری کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جبکہ بروقت علاج اور احتیاطی اقدامات سے ان اموات کی بڑی تعداد کو روکا جا سکتا ہے۔

ریبیز کیا ہے؟

ریبیز ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو عموماً متاثرہ کتے، بلی یا دیگر جانور کے کاٹنے یا خراش لگنے سے انسان میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ وائرس اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے اور اگر علامات ظاہر ہونے کے بعد علاج نہ ہو تو زیادہ تر کیسز میں بیماری جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

پاکستان میں صورتحال کتنی تشویشناک ہے؟

ماہرین کے مطابق پاکستان میں ریبیز کی نگرانی، رپورٹنگ اور ڈیٹا جمع کرنے کا مربوط نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے بیماری کے حقیقی اعدادوشمار بھی مکمل طور پر دستیاب نہیں ہوتے۔ اندازوں کے مطابق ہر سال تقریباً 5 ہزار افراد ریبیز کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جو اس بیماری کو ملک کے اہم صحت کے چیلنجز میں شامل کرتا ہے۔

ریبیز سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو کتا یا مشتبہ جانور کاٹ لے تو فوری اقدامات انتہائی ضروری ہوتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر میں شامل ہیں:

زخم کو فوراً صابن اور صاف پانی سے کم از کم 15 منٹ تک دھونا۔
فوری طور پر قریبی اسپتال یا طبی مرکز سے رجوع کرنا۔
ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق اینٹی ریبیز ویکسین اور ضرورت پڑنے پر امیونوگلوبیولن لگوانا۔
علاج میں تاخیر سے گریز کرنا۔
مؤثر نگرانی کے نظام کی ضرورت

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریبیز کی روک تھام کے لیے صرف علاج کافی نہیں بلکہ ملک بھر میں مؤثر نگرانی، بروقت رپورٹنگ، آوارہ کتوں کی ویکسینیشن اور عوامی آگاہی مہم بھی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق مربوط قومی نظام کے ذریعے بیماری کے پھیلاؤ پر بہتر انداز میں قابو پایا جا سکتا ہے۔

عوام کے لیے احتیاطی مشورے

ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ آوارہ یا مشتبہ جانوروں سے فاصلہ رکھیں اور بچوں کو بھی اس حوالے سے آگاہ کریں۔ اگر کسی کو جانور کاٹ لے تو گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کرنا زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

نتیجہ

پاکستان میں ریبیز کی نگرانی کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی اس بیماری پر قابو پانے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص، مؤثر نگرانی، ویکسین کی دستیابی اور عوامی شعور میں اضافہ ہی ہر سال ہونے والی ہزاروں اموات میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

نئے چیٹ جی پی ٹی ماڈل پر بغیر اجازت فائلیں ڈیلیٹ کرنے کے الزامات سامنے آ گئے

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین