کیا گائے کا گوشت ذیابیطس کا باعث بنتا ہے؟
گائے کا گوشت اور ذیابیطس کے درمیان تعلق کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ تاہم حالیہ طبی تحقیق میں اس موضوع پر کچھ اہم پہلو سامنے آئے ہیں۔ جنہوں نے غذائی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
تحقیق میں کیا کہا گیا؟
طبی ماہرین کے مطابق گائے کے گوشت کا براہ راست تعلق ذیابیطس سے ثابت نہیں ہوا۔ تاہم زیادہ مقدار میں اور غیر متوازن انداز میں سرخ گوشت کا استعمال جسم میں چکنائی اور انسولین کے نظام پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ جو طویل مدت میں خطرات بڑھا سکتا ہے۔
زیادہ استعمال کے ممکنہ اثرات
تحقیق میں بتایا گیا ہے۔ کہ اگر سرخ گوشت کو روزمرہ خوراک کا مستقل حصہ بنا لیا جائے اور ساتھ جسمانی سرگرمی کم ہو تو وزن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انسولین کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ خون میں شکر کی سطح غیر متوازن ہو سکتی ہے۔ یہ تمام عوامل بالواسطہ طور پر ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔
متوازن غذا کی اہمیت
ماہرین صحت کے مطابق کسی بھی غذا کا نقصان یا فائدہ اس کے استعمال کے طریقے اور مقدار پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر گائے کے گوشت کو متوازن مقدار میں سبزیوں، دالوں اور فائبر والی خوراک کے ساتھ استعمال کیا جائے تو اس کے منفی اثرات کم ہو سکتے ہیں۔
کن افراد کو احتیاط کرنی چاہیے؟
طبی ماہرین کے مطابق درج ذیل افراد کو سرخ گوشت کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔ موٹاپے کے شکار افراد پہلے سے ذیابیطس کے مریض دل کے امراض میں مبتلا افراد
صحت مند متبادل
ماہرین تجویز کرتے ہیں۔ کہ خوراک میں توازن برقرار رکھنے کے لیے سبزیوں کا استعمال بڑھایا جائے دالیں اور سفید گوشت زیادہ شامل کیا جائے روزانہ ہلکی ورزش کی جائے










