احتیاطی تدابیر
عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے بعد گھروں اور گلی محلوں میں صفائی کا نظام اگر بروقت نہ کیا جائے۔ تو لال بیگ، مکھیاں اور دیگر کیڑے مکوڑوں کی افزائش بڑھ جاتی ہے۔ جو صحت کے لیے مختلف مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
آلائشوں کو فوری طور پر ٹھکانے لگائیں
قربانی کے بعد سب سے اہم قدم یہ ہے۔ کہ جانور کی آلائشوں کو زیادہ دیر گھر یا گلی میں نہ رکھا جائے۔ جتنا جلد ممکن ہو انہیں مقررہ جگہ یا ویسٹ پوائنٹ پر منتقل کیا جائے۔ تاکہ بدبو اور کیڑوں کی افزائش کم ہو سکے۔
گھر اور صحن کی مکمل صفائی
گھر کے صحن، کچن اور نکاسی آب کے راستوں کو روزانہ صاف کرنا ضروری ہے۔ خاص طور پر خون اور گوشت کے باقیات کو فوراً دھو کر صاف کیا جائے۔ تاکہ کیڑے مکوڑوں کو کھانے کا ذریعہ نہ مل سکے۔
کچرا بند ڈبوں میں رکھیں
کچرے کو ہمیشہ ڈھکن والے ڈبوں میں رکھیں۔ تاکہ لال بیگ اور مکھیوں کی رسائی نہ ہو۔ کھلے کچرے کے ڈھیر کیڑے مکوڑوں کی افزائش کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔
جراثیم کش ادویات کا استعمال
گھر اور اردگرد کے علاقوں میں جراثیم کش اسپرے کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف کیڑے مکوڑے کم ہوتے ہیں بلکہ بدبو بھی ختم ہوتی ہے۔
کھانے پینے کی اشیاء کو محفوظ رکھیں
گوشت اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کو ڈھانپ کر رکھا جائے۔ تاکہ مکھیاں اور دیگر کیڑے ان تک نہ پہنچ سکیں۔ خاص طور پر کچن میں صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔
پانی جمع نہ ہونے دیں
گھر کے اردگرد پانی جمع ہونے سے بھی کیڑوں کی افزائش بڑھتی ہے۔ نکاسی آب کو بہتر رکھا جائے اور کہیں بھی پانی کھڑا نہ ہونے دیا جائے۔
مجموعی احتیاط
عید کے دنوں میں صفائی اور احتیاطی تدابیر اختیار کر کے لال بیگ اور دیگر کیڑوں سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ ذرا سی غفلت صحت کے بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے صفائی کو اولین ترجیح دینا ضروری ہے۔










