فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں لاپرواہی
فیصل آباد میں ایک افسوسناک اور تشویشناک طبی غفلت کا واقعہ سامنے آیا ہے. جہاں اوپن ہارٹ سرجری کے دوران مبینہ طور پر مریض کے جسم کے اندر قینچی رہ گئی۔ اس واقعے نے نہ صرف مریض کے اہل خانہ کو پریشانی میں مبتلا کیا بلکہ اسپتال کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اوپن ہارٹ سرجری کے دوران پیش آنے والا واقعہ
فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رہائشی 22 سالہ ثقلین کا اوپن ہارٹ آپریشن کیا گیا۔ ابتدائی طور پر سرجری کامیاب بتائی گئی، تاہم بعد میں صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب معلوم ہوا کہ آپریشن کے دوران ایک قینچی مریض کے جسم میں رہ گئی تھی۔
تین ہفتے تک تکلیف اور دوبارہ آپریشن
ذرائع کے مطابق مریض نے آپریشن کے بعد مسلسل تکلیف کی شکایت کی۔ تقریباً تین ہفتے تک تکلیف برداشت کرنے کے بعد دوبارہ معائنہ کیا گیا جس میں یہ انکشاف ہوا کہ جسم کے اندر سرجیکل قینچی موجود ہے۔ بعد ازاں دوبارہ سرجری کے ذریعے قینچی نکال دی گئی۔
ابتدائی تحقیقات میں نرسز کی غفلت سامنے آگئی
فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ایم ایس ڈاکٹر ندیم کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں اسٹاف نرسز کی غفلت سامنے آئی ہے۔ بتایا گیا کہ آپریشن کے بعد سرجیکل آلات کی مکمل گنتی نہیں کی گئی، جو کہ ایک سنگین لاپرواہی ہے۔
ذمہ دار اسٹاف کے خلاف کارروائی
ایم ایس کے مطابق ذمہ دار دونوں اسٹاف نرسز کی خدمات اسپتال سے واپس لے لی گئی ہیں جبکہ ان کے خلاف مزید کارروائی کے لیے سیکرٹری صحت کو مراسلہ بھیج دیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد اسپتال کے اندرونی نظام اور احتساب کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
طبی نظام میں بہتری کی ضرورت
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے. کہ ہسپتالوں میں سرجری کے دوران سخت احتیاط اور آلات کی مکمل چیکنگ کتنی ضروری ہے۔ معمولی غفلت بھی مریض کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے. اس لیے ایسے واقعات کو روکنے کے لیے موثر نظام اور نگرانی ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں
صحت مند زندگی کے لیے فائبر کیوں ضروری ہے؟ ماہرین نے اہم حقائق بتا دیے











