لیاقت شہید کی قربانی کو سلام
پاکستان نے ایک بار پھر اپنے ایک بہادر سپوت کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ کوہاٹ میں خودکش حملہ آور کو روک کر قیمتی جانیں بچانے والے لیاقت علی شہید کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارہ شجاعت سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ان کی بے مثال بہادری، جرات اور قومی خدمت کے اعتراف میں دیا گیا۔
والدہ نے اعزاز وصول کیا
ایوانِ صدر میں منعقدہ خصوصی تقریب میں لیاقت علی شہید کا ستارہ شجاعت ان کی والدہ نے وصول کیا۔ اس موقع پر اہلخانہ کو مکمل سرکاری پروٹوکول کے ساتھ تقریب میں مدعو کیا گیا۔ صدر مملکت نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد میں اعزازات تقسیم کیے۔
خودکش حملہ آور کو روک کر جانیں بچائیں
چند روز قبل کوہاٹ کے قریب ایک مشتبہ دہشتگرد کھیتوں کے راستے آبادی کی جانب بڑھ رہا تھا۔ لیاقت علی شہید نے مشکوک شخص کو روک کر اس کی شناخت پوچھنے کی کوشش کی۔ اس دوران خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں لیاقت علی شہید ہوگئے لیکن ان کی قربانی نے متعدد قیمتی جانیں بچا لیں۔
قوم کے ہیرو قرار
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ لیاقت شہید نے دشمن کے ناپاک عزائم کے سامنے ڈٹ کر بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ان کی قربانی پوری قوم کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی لیاقت علی کو قوم کا ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جان قربان کرکے مقامی آبادی کو بڑی تباہی سے بچایا۔
ستارہ شجاعت کی اہمیت
ستارہ شجاعت پاکستان کا دوسرا بڑا سول اعزاز برائے بہادری سمجھا جاتا ہے۔ یہ اعزاز اُن افراد کو دیا جاتا ہے جو غیر معمولی جرات اور قربانی کا مظاہرہ کریں۔ لیاقت علی شہید کی قربانی کو اسی جذبے کے تحت قومی سطح پر سراہا گیا ہے۔
قومی جذبے کی علامت
لیاقت علی شہید کی قربانی اس بات کی مثال ہے کہ پاکستان کے عوام دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں اور ملک کے امن و استحکام کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ ان کی جرات اور قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مزید پڑھیں
انگلینڈ کی سابق ویمن پلیئر سارہ ٹیلر مینز ٹیم کی فیلڈنگ کوچ مقرر











