ایران کو منانے کے لیے پاکستان کی کوششیں تیز
اسلام آباد میں ممکنہ ایران-امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے پاکستان نے اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے
باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ قیادت ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ اس سلسلے میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان رابطوں کا مقصد ایران کو مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت پر آمادہ کرنا اور موجودہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہے۔
جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوشش
پاکستان کی کوشش ہے کہ نہ صرف فوری جنگ بندی برقرار رہے بلکہ اس میں توسیع بھی ممکن ہو سکے۔ اسلام آباد دونوں ممالک کو براہِ راست بات چیت کی طرف لانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ایران کے جواب کا انتظار
پاکستانی حکام ایران کی جانب سے باضابطہ جواب کے منتظر ہیں۔ جیسے ہی ایران شرکت کی تصدیق کرے گا، پاکستان اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
حکومتی وضاحت
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں مذاکرات کے فوری انعقاد سے متعلق خبریں درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اب بھی ایرانی وفد کی تصدیق کا انتظار کر رہا ہے۔
وقت کی حساسیت
حکام کے مطابق جنگ بندی ایک مخصوص وقت تک محدود ہے، جس کے باعث ایران کی جانب سے فوری فیصلے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔
نتیجہ
پاکستان کا کردار اس وقت خطے میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اگر ایران مذاکرات کے دوسرے دور میں شامل ہوتا ہے تو یہ پیش رفت نہ صرف کشیدگی کم کرے گی بلکہ دیرپا امن کی امید بھی پیدا کرے گی۔
مزید پڑھیں
وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روک رہے ہیں: امریکی صدر










